گزشتہ 20 برسوں میں پاکستان سے 6 ارب ڈالر سالانہ بیرون ملک بھیجے گئے‘ چیئرمین ایف بی آر
شبر زیدی کا صنعتی و کمرشل ٹیکس صارفین سے متعلق بڑا فیصلہ‘ایف بی آر 15 اکتوبر سے سخت کروائی کریگا
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے اعتراف کیا ہے کہ بیرون ملک بھیجی گئی دولت پاکستان واپس نہیں لاسکتے۔اسلام آباد میں تقریب سے خطاب میں شبر زیدی نے کہا کہ گزشتہ 20 برسوں میں پاکستان سے 6 ارب ڈالر سالانہ بیرون ملک بھیجے گئے، ان میں سے 85 فیصد دولت قانونی طریقے سے بھیجی گئی اور حکومت اس کو واپس نہیں لاسکتی۔انہوں نے کہا کہ ابھی بھی پاکستانی دولت تسلسل سے بیرون ملک منتقل کی جا رہی ہے، پاکستان کے ہر دولت مند آدمی کے بیرونی ملک اثاثے ہیں۔چیئرمین ایف بی آر نے مزید کہا کہ بیرونی دنیا میں دولت کو چھپایا اور قانونی طور پر محفوظ رکھا جاسکتا ہے، پاکستان سے محض 15فیصد دولت غیر قانونی طریقے سے باہر بھیجی گئی۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے صنعتی و کمرشل صارفین کے ٹیکس سے متعلق بڑا فیصلہ کرلیا۔ چیئرمین ایف بی آر سید شبر زیدی نے کہا ہے کہ تمام صنعتی اور کمرشل صارفین کیلئے ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔ تاہم ہدف حاصل کرنے کیلئے ایف بی آر 15 اکتوبر سے سخت کروائی کرے گا۔ ماضی میں لوگوں نے پیسا باہر بھیج کر جائیدادیں بنائیں۔ٹوئٹر پر اپنے بیان میں شبر زیدی نے کہا کہ ایف بی آر ابھی کمرشل اور صنعتی صارفین کو درخواست کر رہا ہے کہ وہ رجسٹریشن کروائیں تاہم ہدف حاصل کرنے کیلئے ایف بی آر 15 اکتوبر سے سخت کروائی کرے گا۔ انہوںنے کہاکہ تمام صنعتی اور کمرشل صارفین کیلئے ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایف بی آر ابھی کمرشل اور صنعتی صارفین کو درخواست کر رہا ہے کہ وہ رجسٹریشن کروائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں لوگ آج منی لانڈرنگ، حوالہ ہنڈی پر بات کررہے ہیں، جبکہ ماضی میں پاکستان سے پیسا باہر گیا۔اسی طرح کرپشن اور اسمگلنگ پر بھی بات نہیں کی گئی۔

