پاکستانی ہندوئوں کو معاشرے میں قبول نہیں کیا جاتا، بھارت میں شدید مشکلات میں گھر جاتے ہیں، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ
مجھے جودھ پور کے کیمپ میں رکھا گیا، میری ذات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا، مندر میں جانے کی اجازت نہیں تھی، پاکستانی ہندو کمار
نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سے بھارت جانے والے ہندوئوں کو امتیازی رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہیں معاشرے میں قبول بھی نہیں کیا جاتا اور یہ افراد بھارت میں شدید مشکلات میں گھر جاتے ہیں جس کے بعد وہ پاکستان واپس آنے کے لیے کوششیں کرتے ہیں۔ یہ انکشاف موقر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان سے جانے والے ہندوئوں کو معاشرتی دھارے میں شامل کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ پاکستانی ہندو کمار نے بتایا کہ میرے کچھ عزیز اور ہمسائے بھارت گئے تھے اور وہ دو تین سالوں بعد ہی واپس آگئے، وہ بہت مایوس تھے کیونکہ انہیں وہاں تسلیم ہی نہیں کیا گیا، بھاگ چند بھیل نے بتایا کہ میں 2014ء میں بھارت گیا مجھے جودھ پور میں ایک کیمپ میں رکھا گیا، مجھے میری ذات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا، مندر میں جانے کی اجازت نہیں تھی میرے دوست نے ایک کنویں سے پانی پیا تو برہمنوں نے اس پر کنویں کو ناپاک کرنے کا الزام لگا کر وحشیانہ تشدد کیا، بھیل نے مزید کہاکہ بعض دفعہ آپ جوش میں کوئی فیصلہ کر بیٹھتے ہیں لیکن پھر آپ کو پتا چلتا ہے کہ حقیقت کتنی مختلف ہے، شاید یہ فیصلہ میرے لیے بہترین نہیں تھا لیکن شاید میرے بچے بھی کہہ سکیں کہ ہمارے باپ نے ٹھیک فیصلہ کیا تھا۔ جودھ پور کے مہاجرین کیمپ میں رہنے والے پاکستانی ہندوئوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان کے بچوں کی زیادہ اچھی پرورش ہوتی تھی لیکن یہاں ہمیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

