English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

گرد وغبار اور دھواں شہریوں کی صحت کیلئے مستقل خطرہ طبی ماہرین

دمہ، سانس، کان، ناک اور حلق کی بیماریاں وبائی صورت اختیار کرگئیں
موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے اور ٹریفک پولیس اہلکار مستقل ماسک کا استعمال کریں
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) کراچی میں بارشوں کے بعد سڑکوں پر اڑنے والی مٹی، ٹریفک کے دھویں کے باعث دمہ ، سانس، کان ، ناک اور حلق کی بیماریاں وبائی صورتحال اختیار کرگئیں ، متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کررہے ، متاثرہ مریضوں سے سرکاری اسپتال اور نجی کلینکس بھر گئے ، موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے اور ٹریفک پولیس مستقل ماسک کا استعمال کریں طبی ماہرین کا مشورہ ۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں بارشوں کے بعد سڑکوں پر جمع ہونیوالی مٹی، ترقیاتی منصوبوں کے باعث مٹی کے ڈھیر اور سپریم کورٹ کی جانب سے ٹو اسٹروک رکشوں کا دھواں کراچی کی شہریوں کی صحت کیلئے مستقل خطرہ بن گیا ہے اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں گردو غبار اور گاڑیوں کے زہریلے دھویں کے باعث دمہ ، سانس، کان اور حلق کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں اور ان بیماریوں کے ہزاروں مریض یومیہ سرکاری اسپتالوں میں اور نجی کلینکس میں سامنے آرہے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے بتایا کہ متاثرہ مریضوں میں بچوں اور بوڑھوں کی تعداد زیادہ ہے اور ان امراض کے مریضوں کی شرح دوگنی ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے جس میں بلدیہ کے علاوہ وہ شہری ادارے جنہوں نے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے شہر کے مختلف مقامات پر گڑھے اور سڑکیں مہینوں سے کھود رکھی ہیں ااورتعمیراتی کام سست روی سے جاری ہے جبکہ 30ہزار سے زائد سندھ ہائیکورٹ کے حکم سے بند کئے جانیوالے ٹو اسٹروک رکشے، پرانی بسوں سے خارج ہونے والا دھواں کاربن مونو آکسائیڈ اور گردو غبار ناک کے ذریعے شہریوں میں دمہ ، سانس ، ناک ، حلق اور کان کی بیماریوں کا باعث بنا ہوا ہے ۔ ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے شہریوں سے اپیل ہے کہ موٹر سائیکل چلانے والوں کے علاوہ سڑکوں پر ڈیوٹی دینے والے ٹریفک پولیس کا عملہ مستقل ماسک استعمال کرکے ان خطرناک امراض سے بچ سکتے ہیں حلق کی اور سانس کی نالیوں کے باعث لوگ شدید بخار کا بھی شکار ہورہے ہیں متعلقہ اداروں کو صحت عامہ کے تحفظ کیلئے اپنی قومی ذمہ داریوں کو اور شہریوں کو حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا چاہئے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے