عالمی ادارہ صحت کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آن لائن فروخت ہونےوالی دوائیوں میں سے تقریبا 90 فی صد ادویات ملاوٹ اورجعلی ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ فوڈ سپلیمنٹس کو فروغ دینے والےاکثر غیرممالک میں مقیم تھے۔
متحدہ عرب امارات میں ،سیبوٹرمائن پر مشتمل مصنوعات پر پابندی عائد ہے، جبکہ پاکستان میں اس طرح کا کوئی انتباہ یا احتیاطی اقدامات تاحال نظر نہیں آتے ہیں سیبٹرمائن ایک فعال دواؤں کا جزو ہےجو اس کےسنگین ضمنی اثرات کی وجہ سےممنوع ہے، جس کی وجہ سےکچھ مریضوں میں بلڈ پریشر یا نبض کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے محکمہ صحت نے وزن میں کمی کرنے والی کافی کے ایک مشہور برانڈ پر پابندی عائد کرتے ہوئے انتباہ جاری کیا ہے اس میں ایسا جز شامل ہے جو دل کے دورے اورفالج کا سبب بن سکتا ہے۔ ابو ظہبی میں محکمہ صحت نے ایک سرکلر جاری کیا جس میں کہا گیا ہےکہ لشو سلمنگ 3-ان -1 انسٹنٹ نامی کافی کے نمونوں سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں ممنوعہ مادہ شامل ہیں، جو دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھاتا ہیں، یہ 444 جعلی مصنوعات میں سےایک ہے، جنہیں وزن کو کم کرنے کیلئے فروغ دیا جاتا ہے۔
چین میں تیار کردہ سلمنگ کافی کے پیکٹ میں لکھا گیا ہےکہ یہ جنوبی افریقہ کےصحرائے کلہاڑی میں پائے جانےوالےقدرتی پلانٹ ہوڈیا کیکٹس سےبنا ہے، کافی کو متحدہ عرب امارات میں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹوں میں فروغ اور فروخت کیا جاتا تھا۔سرکلر کے مطابق ڈی او ایچ نے کہا کہ لیبارٹری کےنتائج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مشروبات میں ممنوعہ مادہ ہے،جو پیکیجنگ پر غیر اعلانیہ تھا اور جب وہ استعمال ہوتا ہے تو اسے دل کا دورہ پڑنے اور فالج کے خطرے میں اضافہ ہوتا تھا۔
محکمہ نے عوام سے میڈیکل مصنوعات کے معیار سے متعلق کسی بھی قسم کی شکایات کی اطلاع دینےکی ہدایت کی ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ صحت اور روک تھام کی وزارت، امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن جیسےدیگر بین الاقوامی اداروں جیسے حکام کے ذریعہ وزن میں کمی کے تمام جعلی مصنوعات پر پابندی ہوگی۔
ایک سال قبل بھی متحدہ عرب امارات کے محکمہ صحت نے جعلی ادویات اور طبی مصنوعات کی فہرست جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ملک میں 758جعلی ادویہ اور طبی مصنوعات ’طاقت‘ کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے محکمہ صحت کے مطابق 415 مصنوعات وزن کم کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں،135 جعلی مصنوعات اورادویات ایسی ہیں جن کے متعلق دعویٰ ہے کہ وہ مسلز بڑھاتی ہیں۔ جاری کردہ فہرست کے تحت 99 جعلی ادویات اور مصنوعات کا تعلق کاسمیٹکس ہے جب کہ 132 جعلی طبی مصنوعات دیگر مقاصد کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ محکمہ صحت نے خبردار کیا تھا کہ زیادہ تر طبی مصنوعات آن لائن فروخت کی جاتی ہیں۔
