عام طور پر ایسا تاثر لیا جاتا ہے کہ مچھر کچھ لوگوں کو اپنا ٹارگٹ بناتے ہیں۔ایسا اکثر کہتے سنا گیا ہے کہ مچھر تم سے زیادہ مجھ پر حملہ کر رہے ہیں۔ایسا کیوں ہے؟ اس حوالے سے ایک دلچسپ تحقیقی رپورٹ سامنے آئی ہے.
برطانوی یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں مچھر کی 3000 سے زیادہ مختلف اقسام پائی جاتی ہیں اور ان میں سے صرف چند ایسے ہیں جو انسانوں کا خون چوس کر اپنا پیٹ بھرتے ہیں.لیکن جب مچھر انسانوں کے قریب جا رہے ہوتے ہیں تو وہ ہر انسان کے اوپر حملہ آور نہیں ہوتے
اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ جہاں دو یا چار لوگ کھڑے ہوں وہاں مچھر کسی ایک کے سر پر ہی ملائے جارہے ہوتے ہیں۔ کالے کپڑے یا کالے بال یا پھر گہری رنگت والوں کے اوپر منڈلا رہے ہیں۔حقیقت میں ایسا بالکل نہیں۔ جدید سائنس پتہ لگا ہے کہ مچھر خون کی مٹھاس کی وجہ سے اپنے ٹارگیٹ کا انتخاب نہیں کرتے۔
مچھر انسانی جسم کے اوپر جلد کی بو کو سونگھ کر اپنی خوراک کا انتخاب کرتے ہیں۔ ریسرچ کے مطابق انسانی جسم کے ایک سینٹی میٹر ایریا پر دس لاکھ سے زیادہ بیکٹیریا ہوتے ہیں۔ مچھروں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مدد سے یہ پتا لگ جاتا ہے کہ ان کا ٹارگٹ کتنا قریب ہے۔ اپنے ہدف کے پاس پہنچنے پر انہیں لیکٹک ایسڈ کی بو آتی ہے جو مچھروں کے لیے مزید کشش رکھتی ہے یہ بو جانوروں کے اندر بالکل نہیں ہوتی۔
انسانوں کی جلد پر موجود مائیکرو بائیوٹا مچھروں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے اور یہ کیمیکل خوراک اور ماحول سے کے مطابق ہر انسان میں الگ الگ ہوتا ہے اور یہی ان کی پسند کا باعث بنتا ہے۔اب سائنس دان اس بات پر کام کر رہے ہیں کہ کیسے اس مخصوص بو سے بچا جائے جو مچھروں کے لیے کشش رکھتی ہے۔
