پاکستان کے عوام ایک تو پہلے ہی گندگی اور سیوریج کے مسائل کی بناء پر مچھروں کی بہتات سے پریشان تھے اوپر سے جاان لیوا ڈینگی کے حملوں نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں رواں سال صرف ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 30 ہزار سے بھی تجاوز کرچکی ہے جبکہ ملیریا سے متاثرہ افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے لیکن ڈینگی تو دُور کی بات ہے عام مچھروں کی افزائش روکنے کیلئے بھی کسی قسم کے سنجیدہ اور موثر اقدامات کسی جانب سے دیکھنے میں نہیں آرہے۔
بھوٹان کے مچھر:
بھوٹان ایک چھوٹا س سرسبز و شادب ملک ہے جہاں چہار جانب ہریالی نظر آتی ہے، جب ہریالی ہوگی تو کیڑے مکوڑے اور مچھر بھی ہوں گے لیکن بھوٹانی حکومت نے اس ضمن میں سنجیدہ اقدامات نہ صرف شروع کیئے بلکہ ان کا تسلسل بھی جاری رکھا، وہاں مچھردانی، کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ اورلوگوں کومچھروں سے ہونے والی بیماریوں سے آگاہ کرنا یہ سب حکومتِ بھوٹان کے ملیریا اور ڈینگی سے روک تھام سے متعلق سرکاری سکیموں کا حصہ ہے۔
ملیریا کے خلاف بھوٹان میں یہ پروگرام 1960 میں شروع ہوا تھا لیکن اس کا اثر 1990 میں نظر آنا شروع ہوا۔ پھر1994 میں بھوٹان میں ملیریا کے 40 ہزار سے زیادہ کیسز سامنےآئے اوران میں سے 68 کی موت ہو گئی تھی لیکن 2018 تک ملیریا کے محض 54 کیس ہی ہوئے۔ ملیریا لوگوں کی جان بھی لے سکتا ہے یہ جانتے ہوئے بھوٹان کی حکومت اس بیماری کو اپنے ملک سے جڑ سے ختم کرنے کی مہم میں انتہائی چوکس ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بھوٹان ملیریا سے پاک ملک بہت پہلے ہی بن جاتالیکن بھوٹان میں اس بیماری سے لڑنےمیں ایک مذہبی رکاوٹ بھی ہے۔ بھوٹان ایک بودھ ملک ہے اور اس مذہب میں کسی بھی جاندار کو مارنا گناہ تصور کیا جاتا ہے چاہے وہ بیماری پھیلانے والے کیڑے ہی کیوں نے ہوں۔ان حالات میں ملیریاسےبچانے والی ادویات کو چھڑکنے میں والے عملے کو کافی مخالفت کا سامنا ہوتا تھا۔تقریباً دس سال پہلے تک شدید مخالفت کے سبب دوا چھڑکنے والوں کو زبردستی لوگوں کے گھروں میں گھسنا پڑتا تھا، یہ ایسا ہی ہےجیسا پاکستان میں انسداد پولیو مہم کے خلاف منفی پروپیگنڈے نے تاحال پولیو فری پااکستان بننے میں رکاوٹ ڈال رکھی ہے۔

لیکن ان حالات کے باوجود ملک کو ملیریا سے پاک کرنے میں بھوٹان نےجتنی پیش رفت کی ہے ایسی کسی اور ملک میں نظر نہیں آتی۔ماہرین کہتے ہیں کہ بھوٹان نے ملیریا سے جس طرح مقابلہ کیا ہےوہ بہت سےممالک کے لیے ایک سبق ہے خاص طورپرمچھروں پرقابو کرنا۔ بھوٹان میں اس کی کامیابی کی ایک وجہ حکومت کی قوتِ ارادی بھی تھی۔ حکومت نے پوری طاقت کے ساتھ اس مہم کو چلایا اور سماجی تنظیموں کو بھی اس مہم کے ساتھ جوڑا اور سبھی نے اس مہم کی اہمیت کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داری کو سمجھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جیسا ملک کیا بھوٹان سے بھی گیا گزرا ہے جہاں ہر سال ملیریا اور ڈینگی کی وباء سے ہزاروں لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں لیکن اگر زمینی حقائق دیکھے جائیں تو اس کے سدباب کیلئے کیئے گئے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہی ہیں۔
