English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جاپانی لڑکی کا ننجا پر نادیدہ مضمون۔۔۔!!

 

کہیں ایسا بھی ہوتا ہے، امتحان میں کورا کاغذ دیا جائے پھر بھی پورے نمبر مل جاتے ہیں، شرط یہ ہے کہ سمجھنے والا ہونا چاہیئے، کچھ ایسا ہی ہوا جاپان میں بھی جہاں ننجا کی تاریخ پڑھنے والی جاپانی لڑکی کو مضمون میں کورا کاغذ تھمانے پر اس وقت پورے نمبر دیے گئے جب ان کے پروفیسر کو پتہ چلا کہ انھوں نے اپنا مضمون نظر نہ آنے والی روشنائی سے لکھا ہے۔

طالبہ ایمی ہاگا نے یہ کارنامہ ایک ننجا تکنیک ‘ابورداشی’ کے ذریعے انجام دیا جس میں انھوں نے مٹر کے دانوں کو کئی گھنٹے بھگو کر اور پھر انھیں پیس کر یہ روشنائی تیار کی،تاہم جب ان کے پروفیسر نے اس کاغذ کو چولہے کی مدد سے گرم کیا تو الفاظ نمودار ہونا شروع ہو گئے۔

طالبہ ہاگا کے مطابق ‘یہ ایک ایسی تکنیک ہے جو میں نے بچپن میں ایک کتاب سے سیکھی تھی۔ میں امید کر رہی تھی کہ کوئی اور اس تکنیک کو استعمال نہ کرے۔’ہاگا کو بچپن میں ایک اینیمیٹڈ ٹی وی شو دیکھنے کے بعد ننجا کی تاریخ میں دلچسپی پیدا ہوئی تھی۔ ننجا قرونِ وسطیٰ کے جاپان میں خفیہ اہلکار اور قاتل ہوا کرتا تھے۔

جاپان کی مائی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے بعد ہاگا نے پہلے سال میں ننجا کی تاریخ پر کورس پڑھنےکی ٹھانی اوران سےاگاریوکے ننجا میوزیم سے متعلق مضمون لکھنے کو کہا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’جب پروفیسر نے کلاس میں کہا کہ وہ تخلیقی صلاحیت کے استعمال پر زیادہ نمبر دیں گے تو میں نے فیصلہ کیا میرا مضمون سب سے منفرد ہونا چاہیے۔میں نے کچھ دیر اس بارے میں سوچا اور پھر مجھے ابورداشی تکنیک کا خیال آیا‘۔

ہاگا نے مٹر کے دانوں کو رات بھر بھگویا اور پھر انھیں پیس کر ایک کپڑے میں ڈال کر نچوڑ لیا۔ ان مراحل کے بعد انھوں نے پسے ہوئے مٹر کے دانوں کو پانی میں ملایا اور پھر اس کی مخصوص مقدار برقرار رکھنے کے لیے دو گھنٹے صرف کیے اور پھر ‘وشی’ نامی پتلے کاغذ پر ایک باریک برش کے ذریعے یہ تحریر لکھی۔جب ان کی لکھائی سوکھی تووہ نظر آنا بند ہو گئی۔ اس ڈر سے کہ کہیں ان کے پروفیسر ان کا مضمون کوڑے دان میں نہ پھینک دیں انھوں نےاس کاغذ پرعام روشنائی سےلکھ دیاکہ ‘اس کاغذ کو گرم کریں اس حوالے سے پروفیسر یوجی یمادا کا کہنا ہے کہ انھوں نے جب یہ مضمون دیکھا تو وہ حیران ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے اس سے پہلے خفیہ کوڈ میں رپورٹس لکھی دیکھی تھیں لیکن ابورداشی کے ذریعے پہلی مرتبہ ایسا دیکھا۔ سچ بتاؤں تو مجھے شک تھا کہ شاید یہ الفاظ صحیح ظاہر نہیں ہوں گے لیکن جب میں نے اپنے گھر میں چولہے پر کاغذ کو گرم کیا تو الفاظ بہت صاف نظر آنے لگے اور میں نے سوچا یہ بہت خوب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں اس مضمون کو پورے نمبر دینے میں بالکل بھی نہیں ہچکچایا۔ حالانکہ میں نے پورے کاغذ کو گرم نہیں کیا تاکہ اگر میڈیا کو اس بارے میں معلوم ہو اور وہ تصویر لینا چاہیں۔ مضمون کے حوالے سے ہاگا کا کہنا تھا کہ اس میں اسٹائل زیادہ تھا اورمواد کم مقصد صرف یہ تھا کہ استاد کو پتہ چل جائے کہ میرے پاس االفاظ شاید نہ ہوں لیکن ننجا کے انداز و اطوار کا مجھے اچھے سے پتہ ہے اسی لیئے مجھے یقین تھا کہ پروفیسر صاحب میری کوشش کو تسلیم کریں گے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے