بھارت میں دو صحافی جیل میں ہیں
انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے زیر اہتمام سیمینار
اسلام آباد (ساؤتھ ایشین وائر):
5 اگست کے بعد ہندوستانی میڈیا کے خصوصی حوالہ سے مسئلہ کشمیر کی رپورٹنگ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں شرکاء نے کہا ہے کہ بھارتی میڈیا نے کشمیر کی صورتحال کو یکسر نظرانداز کردیا ہے۔
نیوز سروس ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق اسلام آباد میں قائم ادارے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے زیر اہتمام ایک سیمینار میں پاکستان کی پارلیمنٹ میں کشمیر کمیٹی کے چئیرمین فخر امام نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ، مغربی میڈیا نے کشمیر پر ہندوستانی بیانیے پر انحصار نہیں کیا ۔ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا کے رویہ میں ایک مکمل تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ سب سے بااثر اخبار نیو یارک ٹائمز نے مسئلہ کشمیر پر روشنی ڈالی ہے۔
صدر انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)خالد رحمان نے مقبوضہ کشمیر کی صحیح صورتحال کی اطلاع دینے اور مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق حقائق کو مسخ کرنے میں ریاستی ملکیت کے ساتھ ساتھ نجی ہندوستانی میڈیا کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کیا۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس)شیخ تجمل اسلام نے کہا کہ ہندوستان کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے بے نقاب ہوگئے ہیں کیوں کہ وہاں آزادی اظہار رائے پر پابندی ہے۔ بھارتی میڈیا عام طور پر اپنی خبروں کو کشمیر کے بارے میں گمنام سرکاری ذرائع کے حوالے سے منسوب کرتا ہے اور اس وقت وہ حکومت کے ترجمان کا کردار ادا کررہا ہے۔ ہندوستانی حکومت میڈیا مالکان اور صحافیوں پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
بی جے پی کی حکومت نے اپنے قابل اعتماد افراد کو مختلف میڈیا ہاؤسز میں بھرتی کیا ہے۔ بھارت پہلے ہی دو صحافیوں کو قید میں ڈال چکا ہے ۔ بھارتی میڈیا نے کشمیر کی صورتحال کو یکسر نظرانداز کردیا ہے۔
ڈاکٹر عاصمہ شاکر خواجہ نے کہا کہ میڈیا کو حکومتی نمائندے کا کردار ادا نہیں کرنا چاہئے ۔
