بھارت کوئی مس ایڈونچرکرتا ہے تو بھرپور جواب دیں‘مولانا اور اپوزیشن کیمطالبے پر کچھ بھی ہوجائے میں استعفیٰ نہیں دوں گا
مولانا کے مارچ پر بھارت میں جشن منایا جارہا ہے لگتا ہے جے یو آئی ف کے آزادی مارچ کے پیچھے اندرونی اور بیرونی ایجنڈا ہے
نوازشریف کے مستقبل کافیصلہ عدالتیں کریں گی، آرمی چیف مجھ سے پوچھ کر بزنس مینوں سے ملے تھے‘ صحافیوں سے بات چیت
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کو ہدایت جاری کردی ہے کہ فوج کو مکمل طور پر تیار رکھیں۔ وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کہا ہے کہ اگر بھارت کی جانب سے کوئی مس ایڈونچر ہو تو بھرپور جواب دیں۔ اس سے قبل وزیراعظم نے صحافیوں سے ملاقات کے دوران یہ بھی بتایا کہ آرمی چیف ان سے پوچھ کر بزنس مینوں سے ملے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اس پر کام کررہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا ہے کہ گرفتار رہنماؤں کو آج باہر جانے کی اجازت دوں تو زندگی آسان ہو جائے گی،پہلے بھی کہا تھا اپوزیشن کا ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ ہے این آر او۔وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ چار حلقوں کے ثبوت لیکر میں پھرتا رہا۔ ہم اپوزیشن کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرینگے۔ عمران خان نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اس پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جے یو آئی ف کے آزادی مارچ کے پیچھے اندرونی اور بیرونی ایجنڈا ہے مگر اس کے باوجود فضل الرحمان کو مارچ کی اجازت دیں گے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن کا دھرنا پہلے سے طے شدہ ہے، کچھ بھی ہوجائے میں استعفیٰ نہیں دوں گا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے مستقبل کافیصلہ عدالتیں کریں گی، معلوم نہیں اپوزیشن کس ایجنڈے پر چل رہی اْن کے پاس مجھ سے استعفیٰ مانگنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں، دھرنا پہلے سے طے شدہ ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے مارچ پر بھارت میں جشن منایا جارہا ہے لگتا ہے اْن کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے، فضل الرحمان کو سنجیدہ ہوکر مذاکرات کرنا ہوں گے، دھرنے سے پاکستان کے دشمن ممالک کو فائدہ پہنچے گا، آئین اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہر شخص کو احتجاج کا مکمل حق ہے۔واضح رہے کہ بھارت کی لائن آف کنٹرول پر دراندازی اور جارحیت جاری ہے اور پاکستان کی جانب سے اسکا بھرپور جواب بھی دیا جارہا ہے اور اب وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کو ہدایت جاری کردی ہے کہ فوج کو مکمل طور پر تیار رکھیں۔

