English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سمندری طوفان ’’کیار‘‘ کراچی سے 670 کلو میٹر کے فاصلے پر

آئندہ چوبیس گھنٹے اہم ہیں، گہرے سمندر میں لہریں تین سے چار میٹر تک بلند ہوسکتی ہیں، اثرات دو نومبر تک رہیں گے
ہوا کا کم دبائو سائیکلون میں تبدیل ہوسکتا ہے، سمندری پانی کراچی کے بوٹ کلب اور کالف کلب میں بھی داخل ہوگیا
کراچی (اسٹاف رپورٹر) طوفان ’’کیار‘‘ نے سندھ اور بلوچستان کے سمندر میں جوش بھر دیا، سمندری طوفان کیار کراچی سے 670 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ آئندہ 24 گھنٹے اہم ہیں، کیار طوفان کا رخ عمان کی جانب ہے۔ چیف میرولوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ گہرے سمندر میں لہریں 3 سے 4 میٹر تک بلند ہو سکتی ہیں، کل بھارت میں کرناٹک کے قریب ایک اور ہوا کا کم دبائو بن سکتا ہے اور یہ ہوا کا کم دبائو ڈپریشن یا سائیکلون میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ سائیکلون بننے کی صورت میں اسے ماہا کا نام دیا جائے گا، سائیکلون کیار کے اثرات 2 نومبر تک رہیں گے۔ کراچی میں سمندری طوفان کیار کی شدت سے کئی ساحلی بستیاں زیر آب آگئیں رات گئے سمندری طوفان کے باعث سمندر کی سطح بلند ہو گئی ابراہیم حیدری میں ریڑھی گوٹھ، لٹھ بستی اور چشمہ گوٹھ کے گھروں میں سمندری پانی داخل ہوگیا۔ گھروں میں پانی داخل ہونے سے مکین خوفزدہ ہوگئے۔ لٹھ بستی میں 100 سے زائد کچے مکانوں کو نقصان پہنچا طوفان کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہاکس بے کے ساحل پر اونچی لہروں نے کنکریٹ کی رکاوٹوں کو خاطر میں نہ لاکر اپنا راستہ بنایا۔ دوسری جانب سمندری پانی ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) گالف کلب اور کراچی بوٹ کلب میں داخل ہوگیا۔ ڈی ایچ اے گالف کلب کورس کے ہال نمبر 6، 7 اور 8 میں بھی پانی آگیا ہے، ڈی ایچ اے گالف کلب کے کیپٹن کرنل زاہد اقبال کا کہنا ہے کہ 5 سے 6 سو میٹر کا حصہ زیر آب آگیا ہے جو فی الحال کھیل کے قابل نہیں ہے۔ کرنل زاہد کے مطابق پہلی بار گالف کورس میں پانی داخل ہوا ہے، سندھ گالف ایسوسی ایشن کے صدر اسد آئی خان کا کہنا ہے کہ سمندری پانی سے گالف کلب کی گھاس بھی خراب ہوگئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے