English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آٹھ ہفتے کیلئے نواز شریف کی سزا معطل ، رہائی کا حکم

عدالت نے سابق وزیر اعظم کو ضمانت کے عوض 20 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کدی
عثمان بزدار عدالت میں پیش، پہلا وزیر اعلیٰ ہوں جس نے آٹھ جیلوں کا وزٹ کیا ہے، عدالت میں جج کے سامنے بیان
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر 8 ہفتوں کیلئے ضمانت منظور تے ہوئے سابق وزیر اعظم کو ضمانت کے عوض 20لاکھ ر وپے کے ضمانی مچلکے جمع کرانے حکم دیا۔ منگل کو اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف کی اپنے بھائی اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو طبی بنیادوں پر سزا معطل کر کے ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔سماعت شروع ہوئی تو جسٹس عامر فاروق نے حکومت پنجاب سے استفسار کیا کہ آپ کیس سے متعلق آگاہ کریں، جیل میں قیدی کیلئے کیا اقدامات ہیں وکیل حکومت پنجاب نے بتایاکہ وزیراعلی پنجاب کو بلانے پر آئینی اور قانونی پیچیدگیاں تھیںمگر اس کے باوجود بھی وزیراعلیٰ پنجاب عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔انہوںنے کہاکہ وزیراعلیٰ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں، عدالت نے جب بھی بلایا وزیر اعلی پیش ہوئے ہیں۔جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ ہم نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو جیل میں قیدیوں سے متعلق جاننے کیلئے بلایا ہے، قانون کی شقیں ہیں جس میں مریض قیدی کا خیال رکھا جانا چاہیے،کچھ چیزیں ہیں جو توجہ طلب ہیں، صرف پنجاب نہیں تمام صوبوں کے لئے۔انہوںنے کہاکہ نواز شریف نے تو درخواست دائر کر دی بہت سے بیمار قیدی عدالت سے رجوع نہیں کر سکتے، کوئی کینسر اور کوئی دوسری کسی مہلک بیماری سے، ان تمام قیدیوں کے لئے راہ دکھانا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ عثمان بزدار صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں ان کے پاس اختیارات ہیں۔ اس دور ان وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار روسٹرم پر آئے اور کہاکہ میں خود بھی وکیل ہوں۔ انہوںنے کہاکہ میں جہاں بھی جاتا ہوں جیلوں کا وزٹ کرتا ہوں، میں پہلا وزیر اعلیٰ ہوں جس نے 8 جیلوں کا وزٹ کیا،مریض قیدیوں سے متعلق بھی ہماری بھرپور توجہ ہے،ہم جیل ریفارمز کی پوری کوشش کر رہے ہیں،یہ کیس ہم سے متعلقہ نہیں ہے، نواز شریف صرف ہماری حراست میں ہیں۔انہوںنے کہاکہ پنجاب حکومت نے نواز شریف کا خیال رکھنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے۔دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا جسے کچھ دیر بعد سنایا گیا۔ عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ 8 ہفتوں کے لیے نوازشریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطل کردی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ اگر 8 ہفتوں تک ملزم می طبیعت خراب رہتی ہے تو سزا معطلی اور ضمانت میں توسیع کیلئے ایگزیکٹو اتھارٹی اور متعلقہ صوبائی حکومت سے رابطہ کیا جائے۔عدالت نے سابق وزیراعظم کو ضمانت کے عوض 20 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے نوازشریف کی درخواست پر زبانی فیصلہ سنایا جس کا تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جائیگا جبکہ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کے مرکزی اپیل پر سماعت 25 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے