ایم اے جناح روڈ پر ملکی معیشت کا علامتی جنازہ سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا گیا، کراچی سے خیبر تک ہونے والی شٹر ڈائون ہڑتال حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ریفرنڈم ہے، مظاہرے سے محمود حامد، جمیل پراچہ، شرجیل گوپلانی و دیگر کا خطاب
کراچی( کامرس رپورٹر/ مانیٹرنگ ڈیسک) ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی ایف بی آر کے خلاف آج دوسرے دن بھی تاجروں کا احتجاج جاری ہے‘ آج بھی صدر الیکٹرانکس مارکیٹ‘ موٹر سائیکل مارکیٹ‘ بولٹن مارکیٹ وغیرہ میں دکانیں بند ہیں‘ مارکیٹ کل بھی بند رکھی جاسکتی ہے۔ ایف بی آر کے خلاف احتجاج آج بولٹن مارکیٹ پر احتجاجی دھرنا دیں گے اور احتجاجی مظاہرہ بھی کریں گے۔ گزشتہ روز ایم اے جناح روڈ پر ہونیوالے احتجاجی مظاہرے میں ملکی معیشت کا علامتی جنازہ بھی سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا گیا۔آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے صدر محمود حامد نے کہا ہے کہ کراچی سے خیبر تک شٹر ڈاؤن ہڑتال آئی۔ایم۔ایف کے ظالمانہ بجٹ اور ایف۔بی۔آر اہلکاروں کی ہٹ دھرمی کے خلاف ریفرنڈم ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت تاجروں کے مطالبات تسلیم کرے خریداری کیلئے NICکی شرط ختم کی جائے،کرپشن سے پاک فکسڈ ٹیکس سسٹم نافذ کیا جائے تاکہ ملک کی منجمد معیشت کا پہیہ چل سکے۔وہ آج ایم۔اے جناح روڈ پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر رہے تھے،انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگر تاجروں کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو 30روزہ ہڑتال کی کال دینگے۔ہڑتالی تاجروں نے معیشت کے علامتی جنازے کے ساتھ ایم۔اے جناح روڈ پر دھرنا دیا، مظاہرے سے سینئر نائب صدر سید لیاقت علی،نوید احمد،عثمان شریف، عبد الماجد، سلیم ملک،جاوید حاجی عبداللہ اور اقبال یوسف نے خطاب کیا۔مظاہرے میں سندھ تاجر اتحاد کے صدر جمیل پراچہ،سٹی تاجر اتحاد کے رہنما شرجیل گوپلانی،اسماعیل لائپلوریہ،رفیق جدون، سلیم راجپوت، کاشف صابرانی بھی شریک ہوئے۔اسمال ٹریڈرز کے صدر محمود حامد نے کہا کہ تاجر آئی۔ایم۔ایف کے ظالمانہ بجٹ کو مسترد کرتے ہیں عالمی سود خور ادارے آئی۔ایم۔ایف کی پالیسیوں کی وجہ سے غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے اور متوسط طبقہ ختم ہوگیا ہے،قومی بینکوں سے700ارب روپے نکلوائے جاچکے ہیں تاجروں کاحکومتی پالیسیوں کی وجہ سے اعتماد ختم ہورہا ہے تاجر 4ماہ سے اپنی جمع پونجی کھا رہے ہیں معیشت کا پہیہ رک چکا ہے،کارخانے بند اور مزدور بے روزگار ہورہے ہیں، بے روزگاری کی وجہ سے اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر 30 اکتوبر کو بھی شٹر ڈاؤن ہڑتا ل کرینگے۔تاجروں کے متفقہ فیصلے کے نتیجے میں آج کراچی کی مارکیٹیں بند رہیں،صدر الیکڑونکس مارکیٹ،موٹر سائیکل مارکیٹ(اکبر روڈ) ناز پلازہ کمپیوٹر مارکیٹ،زینب مارکیٹ،جامع کلاتھ مارکیٹ،اللہ والا عید گا ہ مارکیٹ، اسپورٹس مارکیٹ، لائٹ ہاؤس، حسن علی آفندی پیپر مارکیٹ، ڈینسو ہال مارکیٹ،اردو بازار، اورنگزیب مارکیٹ، بہادر شاہ مارکیٹ، ندیم کلاتھ و اقبال کلاتھ مارکیٹ،کوچین والا مارکیٹ، جونا مارکیٹ، کھجور بازار، جوڑیا بازار، موتنداس مارکیٹ،کھوڑی گارڈن،بولٹن مارکیٹ، میرٹ روڈ، کچھی گلی،شاہراہِ لیاقت جنریٹر مارکیٹ، صرافہ بازار، بمبئی بازار، فرنیچر مارکیٹ،قریشی مارکیٹ ایم۔اے جناح روڈ، الیکٹرک مارکیٹ برنس روڈ، حیدری مارکیٹ اور طارق روڈ مارکیٹ مکمل بند رہی۔محمود حامد نے تاجر برادری کا ہڑتال میں بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کیا ہے۔ تاجروں نے معیشت کے علامتی جنازے کے ساتھ ایم۔اے جناح روڈ سے لائٹ ہاؤس تک مارچ کیا۔تاجروں نے آئی۔ایم۔ایف مردہ باد،آئی۔ایم۔ایف کی غلامی نامنظور،تاجر کا چولہا جلنے دو،معیشت کا پہیہ چلنے دو، گو شبر گو، الوداع الوداع آئی۔ایم۔ایف الوداع کے فلک شگاف نعرے لگائے اور پھر پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔

