31اکتوبر کو مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کو بھارتی حکومت کے زیر انتظام دوعلاقوں میں باضابطہ طور تقسیم کردیا گیا۔تقسیم بعد مقبوضہ کشمیر کے کس حصے کو کتنا مالی فائدہ یا نقصان ہوگا، اس حوالے سے ساؤتھ ایشین وائر نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ لداخ کو اس تقسیم میں زیادہ فائدہ پہنچنے کا امکان نہیں ہے ۔
حکومت کے ذرائع دونوں ریاستوں کے درمیان اثاثوں کی تقسیم کس طرح ہوگی۔ اس بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست کے بیشتر اثاثے جموں و کشمیر کے علاقوں میں واقع ہیں۔ لداخ ڈیموں ، بجلی کے منصوبوں اور پاور سٹیشنزمیں زیادہ رقم حاصل نہیں کرسکے گاکیونکہ وہ جموں اور کشمیر میں ہیں۔اور جو بھی پاورسٹیشنزلداخ اور جموں و کشمیر کے علاقوں میں واقع ہیں ، وہ وہیںموجود رہیں گے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر کو لداخ میں موجود پاور سٹیشنز سے بجلی کی ضرورت پڑے گی کیونکہ جموں وکشمیر میں آبادی زیادہ ہے ، لہذا لداخ کو بھی اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اس وقت ، جس ریاست میں بجلی گھر واقع ہے ، اسے فروخت پر 12 فیصد رائلٹی ملتی ہے۔ تاہم لداخ کو جموں و کشمیر کے باہر واقع کچھ اثاثے ملنے کا امکان ہے۔ ذرائع نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ سابق ریاست کی دہلی ، امرتسر ، چندی گڑھ اور ممبئی میں چھ جائیدادیں ہیں ، جنھیں دونوں مرکزی علاقوں کے درمیان یکساں تقسیم کیا جائے گا۔
ان میں دہلی کے پرتھوی راج روڈ پر واقع کشمیر ہاؤس اور چانکیاپوری میں جے اینڈ کے ہاؤس شامل ہیں۔ جموں وکشمیر حکومت کے ذرائع نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ مرکز کے ذریعہ 9 ستمبر کو دونوں یونین ٹیریٹریز میں اثاثوں اور واجبات کو تقسیم کرنے کے لئے تشکیل دی گئی تین رکنی مشاورتی کمیٹی اس معاملے پر غور کررہی ہے۔ سابق سیکرٹری دفاع سنجے میترا کی سربراہی میں بننے والی اس کمیٹی کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لئے چھ ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔
حکومتی عہدیداروں کے مطابق لداخی لوگوں کے جذبات کو دیکھتے ہوئے لیہہ کو لداخ کا دارالحکومت بنایا گیا ہے۔
