ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

مختلف کمیشنزکے خاتمے سے زیرالتوا درخواستوں کا کیا ہوگا؟

دفعہ 370 کی منسوخی سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام دو خطوں میں تبدیل کرنے کے بعد مختلف کمیشنزکو ختم کرنے کے ساتھ ہی ان کمیشنزمیں زیر سماعت عام لوگوں کی ہزاروں درخواستوں کا مستقبل بھی مخدوش نظر آ رہا ہے۔
حکومت نے نے 31 اکتوبر سے جے اینڈ کے سٹیٹ ہیومن رائیٹس کمیشن، سٹیٹ انفارمیشن کمیشن، سٹیٹ کنزیومر ڈسپیوٹس ریڈرسل کمیشن، سٹیٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن، سٹیٹ کمیشن برائے تحفظ حقوق خواتین و اطفال، سٹیٹ احتساب کمیشن اور سٹیٹ کمیشن آف پرسنز وتھ ڈس ایبلیٹیز کو ختم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔
حکم نامے کے مطابق جے اینڈ کے ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019 کے تناظر میں ان سبھی کمیشنزسے متعلق سبھی ایکٹ منسوخ قرار دئے گئے ہیں اور یہ سبھی کمیشن جموں کشمیر اور لداخ کی دو یونین ٹیریٹری کے وجود میں آنے سے ہی ختم ہو گئے۔سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن میں قریبا پانچ سو درخواستیں زیر سماعت تھیں جن کے مستقبل کے بارے میں ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
یہ کمیشن دو دہائی قبل قائم کیا گیا تھا جس میں ریاست میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے متعلق درج شکایات کی سماعت اور ان کا ازالہ کیا جاتا تھا۔اس کمیشن میں مارچ 2019 تک 8529کیسز درج کیے گئے جن میں 7725کا فیصلہ ہو چکا تھا وہیں کمیشن کی جانب سے سرکار کو مختلف شکایات سے متعلق 1822سفارشات بھی کی گئی تھیں۔
سٹیٹ انفارمیشن کمیشن میں 350سے زائد درخواستیں زیر سماعت تھیں جن کے بارے میں بھی کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آئی ہے۔ کمیشن کے قیام کے بعد 4216کیسز اور 1037شکایتیں موصول ہوئی تھیں جن کا فیصلہ بھی کر دیا گیا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر آر ٹی آئی کارکن ڈاکٹر شیخ غلام رسول نے ایک نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کو بتایا کہ جموں و کشمیر Right To Information Act 2009کو ختم کرنے کے بعد کمیشن بھی ختم کر دیا گیا اور اس میں زیر سماعت انکی سینکڑوں درخواستیں التوا میں ہیں۔
دوسری جانب حکومت نے ویمن اینڈ چائلڈ رائٹس کمیشن کو ختم کرنے ساتھ ہی اس میں زیر سماعت 200 مختلف شکایات، جن میں گھریلو تشدد سے متعلق کیسز کی تعداد زیادہ تھی، کے متعلق بھی کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔اس کمیشن میں اب تک گھریلو تشدد سے متعلق 3141کیسز درج کیے گئے تھے۔
ایک کمیشن کے ایک سابق افسر نے ساؤتھ ایشین وائر کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ حکومت کی طرف سے انکو احکامات جاری کئے گئے کہ تمام ریکارڈ اور دیگر سامان جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو سپرد کیا جائے اور ملازمین کو واپس جی اے ڈے میں حاضری دینے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔کمیشنز کے بند ہونے سے ان کے صدور، سرپرست اور اراکین بھی اپنے عہدوں سے فارغ ہو گئے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں