کیف: روس نے یوکرین کی گیس تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک جبکہ 37 زخمی ہوگئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سرکاری ادارے نیفتوگاز کی تنصیبات پر ہونے والے اس بڑے حملے میں 3 ملازمین اور 2 ریسکیو اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پولتاوا اور خارکیف کے علاقوں میں کی گئی جہاں رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں اہم گیس انفرا اسٹرکچر شدید متاثر ہوا اور تقریباً 3500 صارفین کو گیس کی فراہمی معطل ہو گئی۔
نیفتوگاز کے سربراہ سیرہی کوریٹسکی نے تصدیق کی کہ دشمن نے بیلسٹک میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کا بھرپور استعمال کیا جس سے گیس کی پیداواری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد تنصیبات کی مرمت اور بحالی کا کام فوری طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے روسی حملوں کو انتہائی منافقت قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب امن اور جنگ بندی کی باتیں کی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب شہری تنصیبات پر بمباری کر کے عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو ناقابل قبول ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق روس نے اس حالیہ کارروائی میں 11 بیلسٹک میزائل اور 164 ڈرونز کا استعمال کیا۔ اگرچہ ان میں سے بیشتر کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا، لیکن کچھ میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے اور تباہی پھیلائی۔
دوسری جانب یوکرین نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے روس کے شہر کیریشی میں ایک بڑی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں ریفائنری میں آگ لگ گئی، تاہم حکام نے کسی جانی نقصان کی تردید کی ہے۔ اس صورتحال سے عیاں ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے دعوے اپنی جگہ، مگر زمینی حقائق انتہائی تلخ ہیں۔ فریقین ایک دوسرے کے اہم ترین اقتصادی اور توانائی کے مراکز کو ہدف بنا رہے ہیں، جس سے خطے میں مزید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ انسانی جانوں کا ضیاع اس جنگ کا سب سے المناک پہلو ہے۔