واشنگٹن: امریکا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل ڈین کین نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ہمراہ مشترکہ پریس بریفنگ میں ایران کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران خطے میں مسلسل کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے اور عالمی تجارت کو متاثر کر رہا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق جنرل ڈین کین نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے اور آبنائے ہرمز میں دو تجارتی جہازوں کو قبضے میں لے چکا ہے جبکہ نو تجارتی جہازوں پر حملے کیے جا چکے ہیں، ایران تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال کر عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے جواب میں امریکا نے آپریشن فریڈم کا آغاز کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن کا مقصد خلیج میں پھنسے بائیس ہزار پانچ سو سے زائد ملاحوں اور متعدد تجارتی جہازوں کو بحفاظت آبنائے ہرمز سے نکالنا ہے، اس علاقے میں موجود تجارتی جہاز اب سمندر اور فضا میں امریکا کی مکمل طاقت کا مشاہدہ کریں گے تاکہ انہیں تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
جنرل ڈین کین نے مزید انکشاف کیا کہ گزشتہ روز ایران کی جانب سے کمرشل بحری جہازوں پر نو مرتبہ فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں امریکی ڈسٹرائرز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایرانی کشتیوں کو تباہ کر دیا، امریکا کے دو بحری جہاز کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں اور مزید جہازوں کی آمد متوقع ہے۔
امریکی جنرل نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف مزید کارروائی کے لیے بھی تیار ہیں،ایران اس وقت ایک ایسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو بڑے تصادم کا سبب بن سکتی ہے، اس کا سب سے زیادہ نقصان خود ایران کو ہی ہوگا۔