غذائیت بخش غذائی اجزا نہ ملنے اور جنک فوڈ کی وجہ سے بھارت میں دس سال سے 19 سال کی عمر کے آدھے سے زیادہ نوجوان کم لمبائی کے شکار ہیں یا پتلے ہیں یا موٹاپے کے شکار ہورہے ہیں۔ان میں سے چھ کروڑ 30 لاکھ لڑکیاں ہیں تو آٹھ کروڑ دس لاکھ لڑکے ہیں جو غذائیت بخش کھانے سے محروم ہیں۔یہ حقائق یونیسیف کی تازہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔
نیتی آیوگ کے نائب صدر راجیو کمار، چیف ایکزی کیٹیو افسر امیتابھ کانت اور یونیسیف کے ایکزی کیٹیو ڈائرکٹر ہینری فور نے جمعرات کی شام یہ رپورٹ جاری کی ہے۔یہ پہلا موقع ہے جب ملک میں قومی طور پر غذائیت بخش کھانے کا جائزہ لیا گیا ہے جس کی بنیاد پر رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ ساؤتھ ایشین وائرنے بتایا ہے کہ اس رپورٹ کے مطابق بھارت کے 80 فیصد نوجوانوں میں غذائیت بخش غذائی اشیا کی کمی ہے۔ان کے کھانے پینے میں آئرن، وٹامن اور زنک کی بے حد کمی ہے۔ دس فیصد سے کم نوجوان ہی کھانے میں روزانہ پھل اورانڈے لیتے ہیں۔ صرف 50 فیصد نوجوان ہر روز دودھ کی کوئی اشیا لیتے ہیں اور 25 فیصد نوجوان ہفتہ میں ایک دن ہری پتیوں والی سبزیاں لیتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق دس سے 19 برس کے نوجوانوں میں جنک فوڈ اور تلی ہوئی چیزوں کے کھانے سے دل کی بیماریاں اور ذیابیطس کے خطرے میں اضافہ ہوگیا ہے۔
نیتی آیوگ کا کہنا ہے کہ جب ملک کا نوجوان طبقہ اتنی بڑی تعداد میں غذائیت بخش غذائی اجزا سے محروم ہے تو اس سے ملک کی معیشت متاثر ہوسکتی ہے۔
نیتی آیوگ کے چیف ایکزی کیٹیو افسر امیتابھ کانت نے اس رپورٹ کے اجرا پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے مسئلہ کو دور کرنے کے لئے مڈ ڈے میل اور آنگن باڑی جیسے پروگرام شروع کئے گئے لیکن س کے ابھی تک پرامید نتائج نہیں آئے ہیں۔
