فضل الرحمان کی سیکورٹی بڑھانے کیلئے پنجاب، خیبرپختونخوا کے ہوم سیکریٹریز اور کمشنر اسلام آباد کو آگاہ کردیا
بھارت اور افغان ایجنسیاںسلیپر سیلز مقامی تعاون سے تخریب کاری کے ذریعے اپنا ہدف حاصل کریںگی‘ اعلامیہ جاری
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزارتِ داخلہ نے جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر قاتلانہ حملے کا خدشہ ظاہر کردیا۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مولانافضل الرحمان پردہشت گردحملے کی منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا ہے، دہشت گرد حملے کے لیے بارود سے بھری گاڑی استعمال کرسکتے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق دہشت گردفضل الرحمان پرقاتلانہ حملہ کرسکتے ہیں۔وزارتِ داخلہ نے فضل الرحمان کی سیکیورٹی بڑھانے کی سفارش کرتے ہوئے پنجاب، خیبرپختونخواہ کے ہوم سیکریٹریز اور کمشنر اسلام آباد کو آگاہ بھی کردیا۔ذرائع کے مطابق بھارت، افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں را اور این ڈی ایس اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے مولانا کو نشانہ بناسکتی ہیں، اس مقصد کے لیے انہوں نے باقاعدہ دہشت گرد تیار کیے۔قبل ازیں وزارت داخلہ نے 25 اکتوبر کو الرٹ جاری کیا تھا کہ دہشت گردتنظیمیں ا?زادی مارچ کو نشانہ بناسکتی ہیں، دشمن ایجنسیوں نے مولانا فضل الرحمان اور دیگر قائدین کو نشانہ بنانے کے لیے ایک لاکھ ڈالر دہشت گردوں میں تقسیم کیے۔مراسلے میں بتایا گیا تھا کہ ملک بھر میں قائم ہونے والے امن کو متاثر کرنے کے لیے دہشت گردی کی کارروائی کی جاسکتی ہے،سلیپر سیلز مقامی تعاون سے تخریب کاری کریں گے اور اپنا ہدف حاصل کریں گے۔

