English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومت نے مذاکرات کیلئے رہبر کمیٹی سے وقت مانگ لیا

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بنائی گئی حکومتی کمیٹی نے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے مذاکرات کے لیے وقت مانگ لیا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو مستعفی ہونے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے بیانات سامنے آنے کے بعد اسلام آباد میں کئی مقامات پر سڑکوں کو کنٹینر لگا کر جزوی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ فیض آباد پر مری روڈ کی چار میں سے صرف ایک لائن ٹریفک کے لیے کھلی رکھی گئی ہے جس کی وجہ سے وہاں ٹریفک کا شدید دباؤ ہے۔

آج حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی رہائش گاہ پر اجلاس ہوا جس میں آزادی مارچ سے متعلق مذاکرات کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔ اجلاس کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی بنی گالا روانہ ہو گئی جہاں وہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے مذاکرات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ دیں گے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے رہنما پیپلز پارٹی اور رہبر کمیٹی کے رکن نیئر حسین بخاری سے ربطہ کیا ہے۔ مزید تفصیلات کے مطابق صادق سنجرانی نے رہبر کمیٹی سے مذاکرات کے لیے وقت مانگا جس پر نیئر حسین بخاری نے کہا کہ مذاکرات کرنے سے متعلق دیگر جماعتوں سے مشاورت کے بعد آپ کو جواب دوں گا۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نےگورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو بھی بنی گالہ طلب کر لیا ہے۔ گورنر پنجاب بھی بنی گالہ میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی مولانا فضل الرحمان کی طرف سےحکومت کے مستعفیٰ ہونے کے حوالے سے دو روز کی مہلت کے بارے میں اعلیٰ سطح پر غور کیا گیا اور ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اہم فیصلے کئے گئے۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے بھی مارچ کے اگلے مرحلے سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی طے کی۔ حکومت اس بات کا انتظار کرے گی کہ دو دن بعد مولانا فضل الرحمان کس لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہیں، اس کی روشنی میں حکومت اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دے گی۔

حکومت نے تمام سیکیورٹی اداروں پولیس، رینجرز اور ایف سی کو الرٹ کر دیا ہے جب کہ انتہائی اشد ضرورت میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے فوج کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کی اعلیٰ شخصیات نے وزیر اعظم عمران خان کے استعفے پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سیاسی طور پر بھر پور مقابلہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے