ملک میں سب سے زیادہ ریونیو کراچی ہی سے جمع ہوتا ہے مگر سہولیات نہیں ملتیں، وسیم اختر
بنیادی مسائل حل اور انفرااسٹرکچر کو بہتر کردیا جائے تو ریونیو میں مزید اضافہ ہوگا، رپورٹ پر تبصرہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ ایف بی آر کے سروے نے ہماری بات سچ ثابت کر دی کہ ملک میں سب سے زیادہ ریونیو کراچی ہی سے جمع ہوتا ہے مگر کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے کوئی توجہ نہیں دی جاتی، کراچی کے انفرااسٹرکچر کو بہتر کرکے قومی ریونیو میں اضافہ کیا جاسکتا ہے کراچی اس خراب صورتحال میں اتنا زیادہ ریونیو جمع کرنے والا شہر ہے اس کے بنیادی مسائل حل اور انفرااسٹرکچر کو بہتر کر دیا جائے تو ریونیو میں کتنا اضافہ ہوگا۔ اس سروے رپورٹ سے پالیسی سازوں کو اندازہ ہو جانا چاہیے، ایف بی آر کی جانب سے ملک کے بڑے شہروں سے ریونیو جمع کرنے کے حوالے سے سروے رپورٹ کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے کہاکہ ایف بی آر نے ملک کے بڑے شہروں، مارکیٹوں کے سروے کے نتائج جاری کیے ہیں اور ہر شہر سے اس سروے کے لیے چند مارکیٹس منتخب کی گئی ہیں، کراچی کی مارکیٹوں صدر، طارق روڈ، کلفٹن، گولیمار، ڈی ایچ اے، گلستان جوہر سے 30.87 ارب روپے ریکارڈ ریونیو اور ٹیکس فائلرز کی تعداد 85020 ہے، ملک کو خراب معاشی صورتحال سے نکالنے کے لیے کراچی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے یہاں کا انفرااسٹرکچر درست کر کے پانی، سیوریج، صفائی اور ٹرانسپورٹ جیسے مسائل حل کرکے ریونیو کو زیادہ کیا جاسکتا ہے افسوس کراچی کے مسائل پر کوئی بھی توجہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ ٹوٹی سڑکیں، بہتے گٹر، بوسیدہ ٹرانسپورٹ کا نظام پالیسی سازوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کھربوں روپے ٹیکس دینے کے باوجود کراچی کے حصے میں نہ کوئی میگا پروجیکٹ اور نہ ہی کوئی ترقی کا منصوبہ ہے۔

