English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی میں جعلی شہریت رکھنے والے تارکین وطن کے گرد گھیرا تنگ

جرائم کی روک تھام کیلئے حساس اداروں نے حکمت عملی مرتب کرلی، جرائم پیشہ عناصر کے بڑے نیٹ ورک کے پیچھے افغان باشندوں کے ملوث ہونے کا انکشاف
مختلف علاقوں میں غیر رجسٹرڈ افغان باشندوں کو پاکستانی شہریت فراہم کرنے والوں کیخلاف گرینڈ آپریشن شروع کردیا گیا، حساس اداروں کی رپورٹ
کراچی (کرائم ڈیسک) شہر قائد میں جرائم کے بے پناہ اضافے کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے حساس اداروں کی جانب سے حکمت عملی مرتب کر لی گئی، پاکستان میں موجود جعلی شہریت کے حامل تارکین وطن کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ، جرائم پیشہ عناصر کے بڑے نیٹ ورک کے پیچھے افغان باشندوں کے ملوث ہونے کا انکشاف سامنے آگیا، مختلف علاقوں میں بسنے والے غیر رجسٹرڈ افغان باشندوں کی تعداد 8 لاکھ سے تجاوز کر گئی غیر قانونی طور پر افغان باشندوں کو پاکستانی شہریت فراہم کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی تیاری شروع کر دی گئی۔ ذرائع کے مطابق تمام تر اضلاع میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف مرحلہ وار کارروائیوں کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ماضی میں بھی ایسی کارروائیاں عمل میں لائی جاتی رہی ہیں اس ضمن میں حساس اداروں کی جانب سے گزشتہ پانچ سال میں 4035 غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ جعلی طریقے سے فراہم کرنے کی فہرست تیار کرلی گئی ہے جن میں 3430 افغان باشندے، 236 ایرانی، 5 عراقی، 110 بنگالی، 21 چینی شہری، 7 مراکشی شامل ہیں جنہیں 2015ء سے 2018ء کے دورانیے میں پاکستان کی شہریت دی گئی ہے۔ آئندہ چند روز میں تمام تر عناصر کے خلاف مختلف قانونی کارروائیوں کو حتمی شکل دی جائے گی افغان پناہ گزینوں کے کراچی کمشنریٹ کے اعداد و شمار کے مطابق شہر میں رجسٹرڈ افغان پناہ گزین کی تعداد 67 ہزار کے قریب ہے جبکہ غیر رجسٹرڈ افغان باشندوں کی تعداد 8 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جو عرصہ دراز سے شہر کے مختلف علاقوں بالخصوص سہراب گوٹھ، افغان بستی، میٹروول، کیماڑی، اتحاد ٹائون، قصبہ کالونی، افغان آبادی، مچھر کالونی، ابراہیم حیدری میں مقیم ہیں۔ پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیوں کا فیصلہ شہر میں ہونے والی حالیہ جرائم پیشہ سرگرمیوں میں بڑھتے ہوئے اضافے کے باعث کیا گیا ہے جن میں افغان باشندوں کے بڑے نیٹ ورک کے فعال ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے