وفاقی دارالحکومت میں بارش کے باعث سردی پڑگئی جس کے نتیجے میں جے یو آئی کے دھرنے کے شرکا کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کا دھرنا 7 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے اور اپوزیشن کو حکومت کے ساتھ ساتھ موسمی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ رات گئے گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی جس کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔ تیز ہوائیں چلنے سے متعدد خیمے اکھڑ گئے جس کے نتیجے میں کچھ لوگوں نے پولیس کے کنٹینرز میں پناہ لی تو بعض شرکا کو رات میٹرو اسٹیشن میں گزارنی پڑی۔
اسلام آباد میں بارش اور دھرنا ساتھ ساتھ#rain pic.twitter.com/Z7dENDf2HD
— Malik Naveed Anjum (@MNaveed_Anjum) November 5, 2019
بارش کے بعد جلسہ گاہ میں ہر طرف کیچڑ ہوگئی جس نے آزادی مارچ کے مظاہرین کو مشکلات میں ڈالے رکھا۔ ادھر شہر کے تمام اہم علاقوں میں شاہراؤں پر کنٹینر رکھ کر سنگل لائن کردی گئی ہے تاہم کسی بھی کنٹینر پر ریفلیکٹرز نہیں لگائے گئے جس سے حادثات کا خدشہ ہے۔
چودھری براداران سے ملاقات
رات گئے مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں چودھری براداران کی رہائشگاہ پر ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانافضل الرحمن نے مزاح میں کہا کہ آج ہم چوہدری صاحب سے حلوہ کھانے کے لئے آئے ہیں، اللہ کرے مگھڈی حلوہ اچھا بنا ہو اور شوگر فری ہو۔
موراخ اُٹھا قلم اور لکھ۔۔۔
جب اسلام اباد میں بارش ہو رہی تھی اور طوفان سی صورتحال تھی تو اُس وقت مولانا صاحب دھرنا ختم کرنے کے اقدامات کر رہے تھے۔۔
” آج ہم چوہدری صاحب کے گھر حلوہ کھانے آئے ہیں ” pic.twitter.com/vOWEZmnV7P
— دل دل پاکستان🇵🇰 (@mij47N0Jc9r2Z5B) November 6, 2019
مولانا فضل الرحمن کی چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویزالہی سے ملاقات میں صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر بھی شریک ہوئے۔ چوہدری پرویز الہی نے مولانا فضل الرحمان کو وزیراعظم کا پیغام پہنچایا اور چوہدری شجاعت حسین نے معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کا مشورہ دیا۔ چوہدری برادران نے فضل الرحمان کو وزیراعظم کے استعفی کے مطالبے سے دستبردار کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی۔
