اردو بازار میںگلیاں اور ٹوٹی سڑکوں کو درست کرنے میں واٹر بورڈ نے کوئی تعاون نہیں کیا
جامع کلاتھ مارکیٹ اور ملحقہ علاقوںمیں سڑکوں کی استرکاری کرر ہے ہیں‘ وسیم اختر کا معائنہ
کراچی( اسٹا ف رپو رٹر )میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ جن علاقوں سے تجاوزات ہٹائی گئی تھیں وہاں بھی سڑکوں کی استرکاری ہورہی ہے، ان علاقوں سے فارغ ہونے کے بعد لنڈا بازار کی سڑک کو تعمیر کیا جائے گا۔ علاقے کا بنیادی مسئلہ سیوریج کا ہے سیوریج کی وجہ سے ان علاقوں کی گلیاں اور سڑکیں تباہ ہوئیں مگر واٹر بورڈ نے نظام کو درست کرنے میں کوئی تعاون نہیں کیا۔ مجبوراً ہمیں اپنے وسائل سے پہلے سیوریج نظام کودرست کرنا پڑا اور اب سڑکوں کی استرکاری کا کام شروع کردیا ہے۔ سیوریج نظام کی درستگی کی وجہ سے ہمارا وقت اور اضافی وسائل بھی لگ رہے ہیں اور ہم اس رقم سے بہت سارے علاقوں کی گلیاں اور سڑکیں تعمیر کرسکتے تھے لیکن ہماری مجبوری ہے کہ ہم پہلے سیوریج درست کر رہے ہیں اگر ایسا نہ کرتے تو تعمیر کی گئی سڑکیں اور گلیاں چند دن میں ہی ٹوٹ جاتیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کی رات اردو بازار اور ملحقہ سڑکوں پر ہونے والے استرکاری کے کام کے معائنہ کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر چیئر مین ورکس کمیٹی حسن نقوی ،چیئر مین اسٹیٹ کمیٹی ناصر خان تیموری،یوسی چیئرپرسن عابدہ سلطانہ اور دیگر منتخب نمائندوںسمیت بڑی تعداد میں علاقہ مکین بھی موجود تھے۔ میئر کراچی نے کہا کہ ہم نے اردو بازار، جامع کلاتھ مارکیٹ اور ملحقہ علاقوں کے تاجروں کی پریشانی اورمطالبہ کے پیش نظر جس کے لیے انہوں نے ایم اے جناح روڈپر دھرنا بھی دیا تھا،اس علاقے کا آج ایک بڑا مسئلہ حل کر دیا ہے، 8کروڑ روپے کی لاگت سے اردو بازار، جامع کلاتھ، آرام باغ اور ملحقہ علاقوں میں سڑکوں اور گلیوں کی استرکاری کا کام شروع کر دیا ہے جو چند دن میں مکمل ہو جائے گا،اردو بازار میں پورے شہر کے لوگ آتے ہیں ،ٹوٹی ہوئی سڑکوں پرجمع ہونے والے سیوریج کے پانی کے باعث یہاں سے گزرنا مشکل ہوگیا تھا تاہم اب کئی سال تک یہ علاقہ ان مسائل سے محفوظ ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ اس علاقے کی حالت انتہائی خراب تھی، گوکہ اندرونی گلیوںکی تعمیر اور سیوریج کے نظام کو ٹھیک کرنا بلدیہ عظمیٰ کی ذمے داری نہیں مگر علاقے کی خراب صورتحال کے باعث یہاں کے تاجر سراپا احتجاج تھے اور اہم تجارتی مراکز کے تاجروں کو بنیادی مسائل حل کرانے کے لیے کاروبار بند کرکے ایم اے جناح روڈ پر دھرنا دینا پڑا۔ اطلاع ملنے پر میںخود ان کے پاس پہنچا اور میری درخواست پر تاجروں نے دھرنا ختم کر کے کاروبار کھولا، آج ان سے کیا ہوا وعدہ پورا ہو رہا ہے۔

