اب مرضی تمہاری ہے، اگر چاہتے ہو اجتماع ختم ہو جائے تو پھر اعلان کردو، خود بھی اور ہم بھی مشکل سے نکل جائیں گے
موجودہ حکومت نے کشمیر کو بیچا اور آنسو بھی بہا رہی ہے، ، ملک کے اندر اپنے دشمن بننے سے کشمیر کاز پیچھے چلا گیا
جب تک کشمیر کمیٹی میرے ہاتھ میں تھی کوئی مائی کا لعل کچھ نہیں بگاڑ سکا، مولانا کاآزادی مارچ کے شرکا سے خطاب
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ بات بڑی صاف ہے، ہم دھاندلی کی حکومت نہیں مانتے، دوبارہ الیکشن کے مطالبے پر قائم ہیں، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔انہوں نے دھرنے کے چھٹے روز شرکا سے خطاب میں کہا کہ اب مرضی تمہاری ہے، اگر چاہتے ہو کہ اجتماع ختم ہو جائے تو پھر اعلان کردو، خود بھی اور ہم بھی مشکل سے نکل جائیں گے، ہم کوئی کمیشن نہیں مانیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ احتساب کے نام پر انتقام کا ڈرامہ اب مزید نہیں چلے گا۔ موجودہ حکومت نے کشمیر کو بیچا اور آنسو بھی بہا رہی ہے، ملک کے اندر اپنے دشمن بننے سے کشمیر کاز پیچھے چلا گیا، جب تک کشمیر کمیٹی میرے ہاتھ میں تھی کوئی مائی کا لعل کچھ نہیں بگاڑ سکا، آج پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں کب تک حقائق چھپاوَ گے؟ جس چیز کو آپ احتساب کہتے ہیں اس سے ہر شخص خوف محسوس کررہا ہے، نیب احتساب کی وجہ سے کوئی بیورو کریٹ فائلوں پر دستخط کرنے کے لیے تیار نہیں، لیکن اب انتقام کے نام پر احتساب کا ڈرامہ مزید نہیں چلے گا۔ آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج آزادی مارچ کے ڈی چوک جانے پر اعتراض کیا جارہا ہے، 2014میں ڈی چوک پر 126 دن کے دھرنے پر اعتراض کیوں نہیں کیا گیا؟ 126 دن دھرنے کی تصویر دنیا کے لیے دلکش تھی لیکن اس کی بدبو آج بھی محسوس کی جاتی ہے، جب کہ آزادی مارچ نے عوام کی مایوسی کو امید میں بدل دیا ہے مارچ سے اسرائیل اور اس کے ہمنوا پریشان ہیں۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جب آپ اپوزیشن میں تھے تو تنہا تھے اور آج حکومت میں بھی کوئی ساتھ نہیں، آج ہم داخلی محاذ پر غیرمستحکم اور خارجہ محاذ پر بھی تنہائی کا شکار ہیں، افغانستان، ایران سمیت خطے کے ممالک آپ سے ناراض ہیں، موجودہ حکومت نے سی پیک کے تحت کی گئی چینی سرمایہ کاری کو بھی غارت کیا، چین بھی آپ پراعتماد کرنے کو تیار نہیں اور پاکستان میں مزید سرمایہ کاری نہیں کرناچاہتا۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے باعث آج لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے، آج بھی بجلی 2 روپے مہنگی کردی گئی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں بھی آسمانوں پر پہنچ گئیں، یومیہ بنیاد پر قرضوں میں اضافہ ہورہا ہے، بلوچستان وسائل سے مالامال ہے لیکن وہاں کے لوگوں کو اس پر اختیار نہیں، تھر میں کوئلے کے وسیع ذخائر ہیں لیکن تھری بھوک سے مر رہے ہیں، زراعت کا دارومدار پنجاب کی سرزمین پر ہے لیکن آج دریاؤں پر بھارت نے قبضہ کر رکھا ہے۔

