سردی آتی ہے تو اپنے ساتھ انواع و اقسام کے خوش رنگ اور خوش ذائقہ پھل ساتھ لاتی ہے مگر پھلوں کو کھانے کے لیے شوگر کے مریضوں کو خصوصی احتیاط کرنی چاہیے ورنہ یہ پھل صحت پر مثبت اثر ڈالنے کے بجائے نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کچھ پھلوں کے استعمال سے انسانی جسم میں انسولین کی مقدار غیر معمولی سطح پر پہنچ جاتی ہے، خون میں موجود گلوکوز کی سطح بھی بگڑ جاتی ہے
شوگر کے مریضوں کو بازار جانے سے پہلے معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کون ساپھل کھا سکتے ہیں اور کون سا نہیں ۔
وٹامن سی سے بھر پور مالٹوں میں اینٹی آکسیڈنٹ اجزاء بھی پائے جاتے ہیں جس سے انسانی جسم سے فاضل مادوں کی صفائی ممکن ہوتی ہے، مالٹوں میں بڑی تعداد میں فائبر بھی موجود ہوتا ہے جس سے بلڈ پریشر اور شوگر لیول کو متوازن سطح پر رہنے میں مدد ملتی ہے۔
ناشپاتی میں طبی جز ’گلیسیمک‘ پائے جانے کے باعث کاربوہائیڈریٹس کو جلدی سے ٹوٹنے اور ہضم ہونے میں مدد ملتی ہے،ماہرین غذائیت کے مطابق اس کا چھلکا غذائیت سے بھر پور ہوتا ہے اسی لیے اسے چھلکے
سمیت کھانا چاہئے۔
امرود میں مالٹوں سے زیادہ وٹامن سی پایا جاتا ہے، غذائیت سے بھرپور امرود میں پوٹاشیم اور فائبر کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جبکہ سوڈیم کی تعداد کافی کم ہوتی ہے، سردیوں میں یہ پھل شوگر کے مریضوں کے لیے ایک بہترین غذا ہے۔
کتھئی اور ہرے رنگ کا یہ چھوٹا سا پھل قدرتی طور پر اینٹی بائیو ٹک اور اینٹی فلامنٹری خصوصیات کا حامل ہے ، اس میں فائبر بھی پایا جاتا ہے، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں افزائش پانے والا کیوی پھل اب پاکستان میں بھی با آسانی دستیاب ہے۔
سیب میں ایک منفرد اینٹی آکسیڈنٹ ’ اینتھو سیانن‘ پایا جاتا ہے جو شوگر کو متوازن رہنے میں مدد فراہم کرتا ہے، سیب میں بڑی مقدار میں آئرن بھی پایا جاتا ہے۔‘
سردیوں کا صحت بخش ، مزیدار اور میٹھے رس سے بھرےپھل انگور سے بھی شوگر کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے، انگور میں موجود جز فائیٹو کیمکل ’ سیزوراٹول‘ پائے جانے کے باعث قدرتی طور پر انسانی جسم میں انسولین بننے میں مدد ملتی ہے۔
