English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

غزہ اور شام پر اسرائیلی جارحیت 13 فلسطینی شہید

غزہ: فلسطینی مزاحمت کاروں کی جوابی کارروائی سے اسرائیلی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی ہے‘ یہودی آبادکار خوف کے مارے زمین پر لیٹے ہوئے ہیں
غزہ: فلسطینی مزاحمت کاروں کی جوابی کارروائی سے اسرائیلی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی ہے‘ یہودی آبادکار خوف کے مارے زمین پر لیٹے ہوئے ہیں

غزہ؍ دمشق (رپورٹ: منیب حسین) قابض صہیونی فوج نے ایک بار پھر فلسطین اور شام پر بیک وقت جارحیت کردی۔ فلسطینی اور عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فوج نے منگل کے روز علی الصبح فلسطین کے محصور علاقے غزہ اور شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں فلسطینی مزاحمت کاروں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے غزہ کے علاقے حی الشجاعیہ میں اسلامی جہاد کے عسکری بازو القدس بریگیڈز کے رہنما 42 سالہ بہا ابوالعطا کے گھر پر میزائل داغے،جس کے نتیجے میں وہ اپنی 39 سالہ اہلیہ اسما محمد حسن سمیت شہید ہوگئے اور ان کے 2 بچے شدید زخمی ہوئے، جو اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ جب کہ دمشق کے نواحی علاقے مزہ میں اسلامی جہاد کے ایک اور رہنما وسیاسی دفتر کے رکن اکرم العجوری کی رہایش گاہ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ان کے بیٹے سمیت 6افراد شہید اور کئی زخمی ہوگئے، تاہم وہ خود محفوظ رہے۔ اسرائیل کی جانب سے داغا گیا تیسرا میزائل دمشق کے نواحی علاقے داریا میں گرا۔ ان حملوں کے ردعمل میں القدس بریگیڈ نے اسرائیل پر راکٹوں پر بارش کردی۔ سیکڑوں راکٹ غزہ سے متصل یہودی آبادیوں اور دوردراز شہروں میں بھی گرے، جن کے نتیجے میں اسرائیلیوں کے درجنوں مکانات اور املاک کو نقصان پہنچا، اور کئی میں آگ بھڑک اٹھی۔ ان حملوں کے نتیجے میں 50 سے زائد یہودی آبادکار زخمی بھی ہوئے۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں عسقلان کی جیل سے 174 قیدیوں اور مختلف علاقوں سے سیکڑوں یہودی خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔ جب کہ خلیج جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ آج بدھ کے روز صہیونی دارالحکومت تل ابیب کے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔ سرحد پر کشیدگی کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیلی چوکیوں پر گولہ باری بھی کی، جب کہ ایک ٹینک کو آر پی جی سیون راکٹ سے نشانہ بنایا۔ دوسری جانب کشیدگی بڑھنے پر اسرائیل نے بھی غزہ پر بم اور میزائل باری کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے نتیجے میں مزید 5 افراد شہید اور کئی زخمی ہوگئے۔ شہدا کی شناخت 20 سالہ محمد عطیہ مصلح حمودہ، 26 سالہ زکی عدنان محمد غنامہ، 26 سالہ ابراہیم احمد عبدالرحیم ضابوس، 26 سالہ عبداللہ عوض ساکب بلبیسی اور 28 سالہ عبدالسلام رمضان احمد احمد کے طور پر ہوئی ہے۔ حماس نے اس صورت حال میں اعلان کیا ہے کہ بہا ابو العطا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور اسرائیل کو اس اقدام کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ دوسری جانب عرب ممالک سمیت عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم نے اسرائیلی حملے کو جارحیت قرار دے کر اس کی سخت مذمت کی ہے۔ جب کہ یورپی یونین نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کا جلد اور مکمل خاتمہ کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے