English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

غزہ پر اسرائیلی یلغار کا دوسرا روز مزید 17 شہید

غزہ: راکٹ حملوں سے اسرائیلی شہری خوف زدہ ہیں‘ بم باری میں شہید ہونے والے فلسطینی باپ بیٹوں کی نمازِ جنازہ ادا کی جارہی ہے
غزہ: راکٹ حملوں سے اسرائیلی شہری خوف زدہ ہیں‘ بم باری میں شہید ہونے والے فلسطینی باپ بیٹوں کی نمازِ جنازہ ادا کی جارہی ہے

غزہ (رپورٹ: منیب حسین) فلسطین کی محصور پٹی غزہ پر قابض اسرائیلی فوج کی یلغار جاری ہے۔ منگل کو علی الصبح شروع ہونے والی اس جارحیت کا سلسلہ بدھ کے روز بھی جاری رہا اور منگل کی رات سے مزید 17فلسطینی شہید ہوگئے۔ اس سے قبل صرف منگل کے روز غزہ میں 7 فلسطینی اسرائیلی بم باری کا نشانہ بنے تھے۔ اس طرح 48گھنٹے کے دوران شہدا کی مجموعی تعداد 24 ہوگئی ہے، جن میں ایک خاتون اور 3بچے بھی شامل ہیں۔ جب کہ طبی ذرائع نے 70 زخمیوں میں 30 بچے اور 13خواتین بتائی ہیں۔ شہید ہونے والوں میں شہریوں کے علاوہ اسلامی جہاد کے عسکری بازو القدس بریگیڈز کے کئی مزاحمت کار بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب اسرائیلی فوج نے غزہ میں القدس بریگیڈ کے کمانڈر بہاابوالعطا کے مکان پر میزائل حملہ کیا، جس میں وہ اپنی اہلیہ سمیت شہید ہوگئے۔ دوسری جانب فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے بھی شدید ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت احرنوت نے گزشتہ روز اپنی رپورٹ میں بتایا کہ منگل کے روز غزہ کی جانب سے 350راکٹ اسرائیل پر داغے گئے۔ یہ راکٹ ساحلی شہر عسقلان سمیت مختلف علاقوں اور آبادیوں میں گرے، جس کے باعث کئی مکان اور املاک تباہ ہوئیں، جب کہ یہودی آبادکاروں میں شدید خوف وہراس رہا۔ قابض انتظامیہ ہر راکٹ کے ساتھ انتباہی سائرن بجاتی رہی، جس نے صہیونی عوام کے اوسان مزید خطا کیے رکھے۔ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں کاروبارِ زندگی مکمل طور پر بند اور سرگرمیاں معطل رہیں، حالاں کہ وہاں ایک راکٹ بھی نہیں لگا۔ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں غزہ کے تمام اسکول بند کردیے گئے ہیں۔ جب کہ اسرائیل نے محصور پٹی کی تمام سرحدی گزر گاہیں بھی سیل کردی ہیں اور فلسطینی ماہی گیروں کے لیے شکار کا دائرہ بھی محدود کردیا ہے۔ کشیدگی میں اضافے کا خدشہ بھی ہے، کیوں کہ ا القدس بریگیڈز نے صہیونی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صہیونی دشمن نیتن یاہو کے مذموم عزائم کو جلد خاک میں ملا دیا جائے گا۔ تنظیم کے ترجمان ابوحمزہ نے کہا کہ آنے والے گھنٹے اہم ہیں اور ہم دشمن ریاست کے ناپاک عزائم کو ہرصورت ناکام بنا کر دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ پر جارحیت مسلط کرنے کی تمام تر ذمے داری صہیونی ریاست پرعائد ہوتی ہے، اور اس کے ہرمکروہ اور سفاکانہ حربے کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی مجاہدین دشمن کے سامنے پورے عزم کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں۔ اس منظرنامے میں اقوام متحدہ بھی جنگ بندی کے لیے متحرک ہوگئی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نیکولائے میلاڈینوف مصر پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ مصری قیادت سے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے بات چیت کررہے ہیں۔ اسرائیل میں وزیراعظم نیتن یاہو کی موجودہ حکومت نے بظاہر یہ حملہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے کیا ہے، کیوں کہ صہیونی ریاست میں رواں سال 2بار عام انتخابات ہوچکے ہیں، لیکن حکومت سازی کی تمام تر کوششیں اب تک ناکام ثابت ہورہی تھیں۔ نیتن یاہو کے فریق اس کے ساتھ اتحادی حکومت بنانے کو تیار نہیں۔ تاہم غزہ پر جارحیت نے نیتن یاہو اور اس کے حریف بینی گینٹس کو شراکت اقتدار کا فارمولا قبول کرتے ہوئے مشترکہ حکومت بنانے پر متفق کردیا ہے۔ اخباراسرائیل ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق یلو وائٹ اتحاد اور لیکوڈ پارٹی کی قیادت نے شراکت اقتدار کے فارمولے پر دستخط کردیے ہیں، اور دونوں رہنمائوں نے مل کر حکومت کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ دونوں نے عرب ارکان پارلیمان کو شامل نہ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے