English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کشمیر اور بابری مسجد کے بعد عائلی قوانین مودی کا ہدف

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے رواں سال 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم اور اسے خصوصی درجہ دینے والی آئینی شق 370 کو کالعدم کیا۔ اس کے بعد رواں ماہ 9 نومبر کو عدالت عظمیٰ نے برسوں سے جاری بابری مسجد اور رام مندر تنازع پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین ہندوؤں کو دے دی، جب کہمسلمانوں کو ایودھیا ہی میں 5 ایکڑ زمین مسجد کے لیے دینے کا حکم دے دیا۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ساتھ ہی ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ یہ خطرناک اہداف حاصل کرنے کے بعد مودی سرکار کا اگلا نشانہ ملک کے عائلی قوانین ہوں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے اگلے ایجنڈے میں سر فہرست یکساں عائلی قوانین سے متعلق قانون ہوگا۔ اس کے علاوہ پورے ملک میں این آر سی (نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز) نافذ کرنا اور شہریت کا قانون بنانا بھی بی جے پی حکومت کے مرکزی ایجنڈے میں شامل ہے۔ بی جے پی کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی پردیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے 3 بڑے ایجنڈے ایودھیا، آرٹیکل 370 اور یکساں عائلی قوانین تھے۔ ان میں سے 2 کام تقریباً پورے ہوچکے ہیں اور اب پارٹی یکساں عائلی قوانین پر کام شروع کرے گی۔ پردیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ تاہم اس سے قبل موسم سرما کے پارلیمانی اجلاس میں حکومت این آر سی اور شہریت کا بل پیش کر سکتی ہے، کیوں کہ حکومت اس معاملے پر پہلے ہی بہت کچھ کر چکی ہے اور پارٹی ان دونوں معاملوں پر بہت سنجیدہ ہے۔ پردیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ مودی سرکار یکساں عائلی قوانین کے بارے میں بھی سنجیدہ ہے، لیکن اس کے لیے انہیں عوامی رضامندی لینا ہوگی۔ یکساں عائلی قوانین کا مطلب بھارت کے تمام شہریوں کے لیے خاندانی امور سے متعلق ایک ہی قانون ہے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہو۔ یکساں عائلی قوانین میں شادی، طلاق اور جائداد کی تقسیم جیسے معاملات پر تمام مذاہب کے لیے ایک ہی قانون کا اطلاق ہوگا۔ اس وقت بھارتی آئین کے تحت قانون کو بڑے پیمانے پر 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: دیوانی اور فوجداری۔ شادی، جائیداد، جانشینی یعنی کنبے اور خاندان کی جائداد کی تقسیم کے متعلق قوانین عائلی قانون کے زمرے میں آتے ہیں۔ بی جے پی کے جنرل سیکرٹری رام مادھو نے کچھ ماہ قبل ہی کہا تھا کہ مودی حکومت یکساں عائلی قوانین نافذ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے