پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانس میں کیے گئے ایک تحقیقی مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ 1979ء میں سوویت یونین کی جانب سے افغانستان پر حملے کے بعد سے اگست 2019ء تک دنیا بھر میں دہشت گرد کارروائیوں کا شکار ہونے والے افراد میں 90فیصد مسلمان ہیں۔ تحقیقی مطالعے پر مشتمل یہ رپورٹ پولیٹکل کریٹوٹی فاؤنڈیشن کی جانب سے تیار کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ مدت کے دوران مختلف تنظیموں نے دہشت گردی کی 33ہزار 769 کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں میں ایک لاکھ 67ہزار 96 افراد ہلاک اور ایک لاکھ 51ہزار 431 زخمی ہوئے۔پیرس حملوں کے 6 برس پورے ہونے پر شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 89.1فیصد دہشت گرد کارروائیاں مسلم ممالک میں ہوئیں اور اس کا شکار ہونے والے مجموعی افراد میں سے 91.2 فیصد مسلمان ہیں۔رپورٹ کے مطابق داعش تنظیم کی یورپ میں کی گئی کارروائیوں میں 54فیصد فرانس میں ہوئیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی مسلمانوں کی تنظیم اکنا نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے شبہے میں گرفتار کیے گئے 93 فیصد لوگ بے قصور نکلے۔یہ رپورٹ ’’مجلس سماجی انصاف‘‘ کے وکلا کی ٹیم نے تیار کی تھی۔
