
بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک بار پھر تشدد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق پولیس اور ہنگامی طبی امداد کے کارکنوں نے تصدیق کی کہ جمعرات کے روز دارالحکومت بغداد میں کم از کم 4 مظاہرین ہلاک اور 52 زخمی ہوگئے۔ سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف خطرناک آنسو گیس شیلوں کا استعمال کیا تھا۔ 3مظاہرین کی ہلاکت آنسوگیس کے شیل سر پر لگنے سے ہوئی، جب کہ چوتھا صوتی بم کے چھرے لگنے سے مارا گیا۔ سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال اس وقت کیا، جب انہوں نے تحریر اسکوائر پر اپنے احتجاجی کیمپ سے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ ادھر عراقی حکام نے بدھ کی شب ناصریہ کے غراف ضلع کی جانب سیکورٹی کمک بھیجی، تا کہ صورت حال کو قابو میں کیا جا سکے۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جنہوں نے غراف ضلعکے ذمے داران کے گھروں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے بھی فائر کیے۔ جب کہ ذی قار صوبے میں مظاہرین نے سرکاری ذمے داران کے گھروں کو آگ لگا دی۔ صوبے کے گورنر کا کہنا ہے کہ اس تخریب کاری کا جواب دیا جائے گا۔ اس سے قبل عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے سیکورٹی فورسز کی کمان کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں داعش تنظیم کی باقیات پر روک لگانے کے لیے مسلح افواج کی کوششیں زیر بحث آئیں۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں بغداد اور دیگر صوبوں میں امن و امان کے تحفظ اور پر امن مظاہرین کی حفاظت کے لیے سیکورٹی فورسز کے اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔ عراقی وزیراعظم کی جانب سے یہ اعلان کیا جا چکا ہے کہ وہ مظاہرین کی ہلاکتوں کے واقعات کی تحقیقات شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ عراق میں یورپی یونین کے مشن کے ارکان سے ملاقات کے دوران عادل عبدالمہدی نے پُرامن مظاہروں کے حق، مظاہرین اور نظام عامہ کے تحفظ اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے تشدد کے بلا جواز استعمال نہ کرنے پر زور دیا۔
