English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت ،رافیل طیاروں کی خریداری میں بدعنوانی کا مقدمہ خارج

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی عدالت عظمیٰ نے مودی سرکار کے خلاف فرانس سے جنگی طیاروں کی خریداری میں بدعنوانی کا مقدمہ خارج کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ دفاعی نکتہ نظر سے ہونے والے معاہدوں اور سودوں کی قیمتیں طے کرنا عدالت کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا اور یہ حکومت کا کام ہے جس کا وہ خیال رکھے گی۔ عدالت عظمی نے اس سے متعلق گزشتہ دسمبر میں 2درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا، جن میں رافیل جنگی طیاروں کی خرید میں بد عنوانی کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالت کی زیر نگرانی اس کی تفتیش کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ عرضیاں بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ 2 سابق مرکزی وزرا اور عدالت عظمیٰ کے سرکردہ وکیل پرشانت بھوشن نے دائر کی تھیں۔ اسی فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی گئی تھی، جسے عدالت نے پوری طرح سے مسترد کر دیا، لیکن 3 ججوں پر مشتمل بینچ کے اس فیصلے پر بحث پھر تیز ہوگئی ہے۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی اور سنجے کشن کول نے قیمتوں سے متعلق کہا کہ دستاویزات سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ آم اور املی کی قیمت ایک نہیں ہوسکتی۔ لیکن جسٹس جوزف نے اپنے فیصلے میں اس کی آزادانہ تفتیش کا راستہ بھی ہموار کر دیا ہے اور کہا کہ کوئی بھی تفتیشی ایجنسی اس کی تفتیش کر سکتی ہے۔ بھارت نے 2010ء میں فرانس کی ڈسالٹ ایوی ایشن کمپنی سے 100 سے زائد رافیل جنگی طیارے خریدنے کی بات شروع کی تھی، لیکن 2014ء میں مودی سرکار اقتدار میں آئی اور اس نے 2016ء میں 59 ہزار کروڑ روپے میں 36 رافیل جنگی طیارے خریدنے کا معاہدہ کر لیا۔ اس کے تحت ڈسالٹ نے بھارت میں 50 فیصد رقم کی سرمایہ کاری کا بھی وعدہ کیا اور اس کے تحت طیارہ کے چھوٹے پرزے بنانے کے لیے ارب پتی انیل امبانی کی کمپنی ریلائنس سے معاہدہ کیا گیا۔ حزب اختلاف کی جماعتوں اور دیگر ماہرین کا الزام ہے کہ یہ اصل سے بہت زیادہ قیمت پر اس لیے خریدے گئے، تاکہ ریلائنس کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انیل امبانی کی ریلائنس کمپنی کو دفاعی امور میں کوئی بھی تجربہ نہیں ہے، تو پھر حکومت نے اسے یہ معاہدہ کیوں سونپا۔ پارلیمان میں بھی اس مسئلے پر خوب ہنگامہ ہوا تھا، تاہم حکومت نے تفتیش کے تمام مطالبات مسترد کر دیے اور اس طرح یہ کیس عدالت عظمیٰ تک پہنچا۔ اس مہم میں کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی پیش پیش تھے اور انھوں نے وزیراعظم کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ چوکیدار چور ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے