
غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم جہاد اسلامی کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق جہاد اسلامی کے ترجمان مصعب بریم نے اسرائیل اور تنظیم کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کا اعلان کرنے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے لیے ہمسایہ ملک مصر نے کلیدی اور ثالثی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں امن معاہدہ طے پایا، جس میں اسرائیل نے جہاد اسلامی کی کئی شرائط مان لیں۔ مصعب البریم کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی معاہدے کا طلاق جمعرات کی صبح 5بج کر 30منٹ سے ہو چکا ہے۔ جہاد اسلامی کے راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیلی فوج کے میزائل حملوں کے باعث جنگ زدہ غزہ میں 3روز سے معمولات زندگی معطل تھے اور معصوم جانوں کا نقصان ہو رہا تھا۔ یاد رہے کہ منگل کی صبح سے جاری رہنے والی اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں غزہ میں اب تک 34فلسطینی شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیرخارجہ یسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی قیادت فلسطینی مزاحمت کاروں کو قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنانے کی پالیسی پرعمل جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر کی کوششوں سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود وہ کسی بھی فلسطینی مزاحمت کار کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں۔ اسرائیل کے عبرانی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے یسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ اسرائیل ہراس شخص کو تکلیف اور صدمہ پہنچائے گا جو ہمیں اذیت دے گا۔ ان کا اشارہ اسلامی جہاد کی طرف تھے جسے صہیونی ریاست کی طرف سے غیرمعمولی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
