English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت ہندوتوا کا نیا مظاہرہ مسلمان پروفیسر کے تقرر پر احتجاج

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی شہر ورانسی کی بنارس ہندو یونیورسٹی کے ہندو طلبہ نے شعبہ سنسکرت میں ایک مسلمان پروفیسر فیروز خان کے تقرر کے خلاف احتجاج شروع کردیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے دھرنے پر بیٹھے طلبہ کا کہنا ہے کہ ایک مسلمان ہندوؤں کو ہندو مذہب کی تعلیم نہیں دے سکتا، لہٰذا پروفیسر فیروز خان کا تقرر منسوخ کیا جائے۔ دوسری جانب وائس چانسلر نے پروفیسر فیروز خان کے تقرر کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرفیسر فیروز تمام امیدواروں میں سب سے قابل پروفیسر ہیں اور مذہب کے نام پر ان کے ساتھ تفریق نہیں برتی جا سکتی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ریسرچ اسکالر شبہم تیواری کا کہنا ہے کہ ایک مسلمان ہندوؤں کو مذہب اور سنسکرت کی تعلیم نہیں دے سکتا۔ کسی کا تقرر ہوتا ہے تو وہ 65برس تک یہاں پڑھائے گا اور تب تک نہ جانے کتنے طلبہ یہاں سے فارغ ہوں گے۔ نہ جانے کتنے بچوں کا مستقبل اس سے تباہ ہو گا۔ ہم اس تقرر کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جب تک انہیں ہٹایا نہیں جاتا تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ طلبہ پروفیسر فیروز کا تقرر منسوخ کرانے کے لیے یونیورسٹی میں نصب ایک کتبے پر لکھے قول کا حوالہ بھی دے رہے ہیں جس پر لکھا ہوا ہے کہ سنسکرت کالج میں غیر ہندو مذہب کے کسی شخص کو پڑھنے اور تعلیم دینے کی اجازت نہیں ہو گی۔ واضح رہے کہ پروفیسر فیروز خان کا تعلق راجستھان سے ہے۔ انہوں نے سنسکرت میں پی ایچ ڈی کیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ تمام امیدواروں میں سب سے بہتر تھے اور ضابطے کے مطابق مذہب کی بنیاد پر کسی سے تفریق نہیں برتی جا سکتی۔ یونیورسٹی کے پراکٹر ڈاکٹر رام نارائین دیویدی نے بتایا کہ پروفیسر فیروز خان کا تقرر پوری طرح مسلمہ ضابطوں کے تحت کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے طلبہ کو سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پروفیسر فیروز خان اس سے قبل جے پور کے ایک سنسکرت ادارے میں پڑھاتے تھے۔ وہ سنسکرت کے بہترین اسکالر ہیں اور انہیں کئی ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ طلبہ ان کے تقرر کے خلاف احتجاج ترک کر دیں گے اور انہیں یہاں پڑھانے کا موقع دیا جائے گا۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے فیروز خان کے تقرر کا دفاع کرتے ہوئے طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا احتجاج ختم کر دیں تاہم طلبہ کا کہنا ہے کو جب تک پروفیسر فیروز کا تقرر منسوخ نہیں کیا جاتا ان کا احتجاج جای رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے