تہران (مانیٹرنگ ڈیسک +خبرایجنسیاں) ایران میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف شہروں میں ہونے والے ہنگاموں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 12ہوگئی جبکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی حمایت کردی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ایران کے مختلف شہروں میں مظاہروں میں شدت آنے کے بعد دارالحکومت تہران سمیت اکثر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ہے۔ مشہد، برجند، شیراز، بندرعباس، ابادن، اہواز سمیت متعدد شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں سیکیورٹی فورسز سے جھڑپوں میں 12 افراد ہلاک ا ور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ مظاہرین نے مختلف علاقوں میں ٹریفک کوبلاک کردیا جب کہ کچھ نے ایندھن کے اسٹوریج ہاؤس پر بھی حملے کی کوشش کی۔دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی حمایت کرتے ہوئے الزام عاید کیا کہ سبوتاژ کے پیچھے سیاسی مخالفین اور غیرملکی دشمن عناصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس فیصلے سے بلاشبہ پریشان ہیں لیکن تخریب کاری اور بدمعاشی ہمارے لوگوں نے نہیں کی ۔ان کا کہنا تھا کہ انقلاب اور ایران دشمنوں نے ہمیشہ توڑ پھوڑ اور سلامتی کی خلاف ورزیوں کی حمایت کی ہے اور اب بھی ایسا ہی کررہے ہیں۔
