نئی دہلی (آن لائن ) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے بابری مسجد کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کرنے کی حمایت اور مسجد کے لیے متبادل زمین قبول کرنے کی مخالفت کردی۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ‘اے آئی ایم پی ایل بی’ کے سیکرٹری ظفریاب جیلانی نے لکھنؤ میں بورڈ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ مسجد کی زمین اللہ کی ہے اور شریعت کے مطابق یہ زمین کسی کو نہیں دی جاسکتی۔’انہوں نے بتایا کہ ‘بورڈ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ مسجد کے لیے ایودھیا میں 5 ایکڑ زمین لینے کے مخالف ہے اور بورڈ کا خیال ہے کہ مسجد کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا۔بورڈ کا کہنا تھا کہ ‘سنی وقف بورڈ کو برادری کے بڑے حصے کے نقطہ نظر کا احترام کرنا چاہیے۔قبل ازیںجمعیت علمائے ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی کی درخواست کے لیے وکلا اور ماہرین سے طویل مشاورت کی ہے۔ واضح رہے کہ 9 نومبر کو بھارتی سپریم کورٹ نے 1992 ء میں شہید کی گئی تاریخی بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ ’ایودھیا میں متنازع زمین پر مندر قائم کیا جائے گا جبکہ مسلمانوں کو ایودھیا میں ہی مسجد کی تعمیر کے لیے نمایاں مقام پر 5 ایکڑ زمین فراہم کی جائے۔فیصلے میں بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ایودھیا میں بابری مسجد کی متنازع زمین کے مالک رام جنم بھومی نیاس ہیں، ساتھ ہی یہ حکم دیا کہ مندر کی تعمیر کے لیے 3 ماہ میں ٹرسٹ تشکیل دی جائے۔
