موسم بدلتا تو خوش رنگ پھلوں کی بہار اپنے رنگ جما لیتی ہے ۔ انگور کے لیے موسموں کی کوئی قید نہیں کیونکہ یہ سارا سال ہی بازار میں دستیاب ہوتا ہے لیکن سرما کے اوائل میں اس کے گچھے بیلوں سے اتار کر کھانے کا اپنا ہی لطف ہے۔ خصوصاً پاکستان کے شمالی علاقوں میں انگور کی کاشت سے نہ صرف مقامی آبادی اپنی ضروریات پوری کرتی ہے بلکہ اس کے ذریعے اپنی آمدنی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
انگور کا رنگ زردی مائل ہرا اور سیاہ ہوتا ہے۔ کچا انگور ترش ہوتا ہے جبکہ پکا ہوا شیریں ہوتا ہے۔
انگور کا تعلق بیریز کے خاندان سے ہے جس کی مختلف اقسام دنیا بھر میں مختلف رنگوں جیسے سبز، سرخ، نیلے، جامنی اور سیاہ رنگوں میں دستیاب ہیں۔
انگور سے خشک میوہ یعنی کشمش بھی تیار کیا جاتا ہے اور یہ وہ پھل ہے جو سال بھر آسانی سے ملتا ہے۔
انگور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور پھل ہے جیسے کیروٹین، پولی فینولز اور دیگر۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق یہ اینٹی آکسیڈنٹس دل کی صحت کو مستحکم رکھنے کے ساتھ مخصوص اقسام کے کینسر کا خطرہ کم کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ یہ پھل جسم میں گردش کرنے والے مضر ذرات کو اکھٹا ہونے سے روکتا ہے جس سے خون کی شریانوں کی صحت بہتر ہوتی ہے، دوران خون بہتر اور بلڈ پریشر کی سطح کم ہوتی ہے۔

