واشنگٹن/ بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی سینیٹ نے ہانگ کانگ میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے نفاذ کی حمایت کا مسودہ قانون متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ امریکی سینیٹ نے منگل کے روز ’’ہانگ کانگ انسانی حقوق اور جمہوریت ایکٹ‘‘ کی منظوری دی۔ یہ بل چین کو ایک ملک دو نظام کے اس لائحہ عمل کی ممکنہ خلاف ورزی سے روکنے پر زور دیتا ہے، جس کا مقصد ہانگ کانگ کو بڑی حد تک خود مختاری دینا ہے۔ اس بل کے رو سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے چینی حکام پر پابندیاں بھی لگائی جا سکیں گی۔ اس قانون کا مقصد ہانگ کانگ کے سرگرم جمہوریت نواز کارکنوں کے لیے امریکی حمایت کا اظہار کرنا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیجنے سے قبل اس قانون پر سینیٹ اور ایوان نمایندگان میں بحث کی جارہی ہے، جس نے پہلے ہی اپنے مرتب کردہ مسودے کی منظوری دی ہے۔ دوسری جانب چین نے امریکی سینیٹ کی جانب سے اس بل کی منظوری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ’’ہانگ کانگ انسانی حقوق اور جمہوریت ایکٹ‘‘ پر دستخط کر کے اسے قانون بنایا گیا تو وہ جوابی اقدامات کرے گا۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہ مجوزہ قانون ہانگ کانگ اور چین کے معاملات میں صریح مداخلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اس کی مذمت اور سخت مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا ایسے غلط فیصلے کرنے پرمُصر رہا تو چین اپنی قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے دفاع کے لیے سخت جوابی اقدامات کرے گا۔ اس حوالے سے چینی حکومت کے ہانگ کانگ و مکاؤ امور کے دفتر اور ہانگ کانگ میں بیجنگ کے رابطہ دفتر نے بھی مذمتی بیان جاری کیے ہیں۔
