برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس برسلز میں ہوا جس میں رکن ممالک کے مابین بڑھتے ہوئے اختلافات ختم کرنے پر بات چیت ہوئی۔ اس سے قبل فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے کہا تھا کہ 29 رکنی مغربی فوجی اتحاد دماغی طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ فرانسیسی صدر نے امریکی صدر ٹرمپ کی قیادت اور ترکی کے رویے پر سوالات اٹھائے تھے۔ اُدھر جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا ہے کہ وہ اس فوجی اتحاد میں نئی روح پھونکنا چاہتے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق برسلز میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے نتائج کا اعلان 3 اور 4 دسمبر کو برطانیہ میں ہونے والے اجلاس میں متوقع ہے۔ دوسری جانب نیٹو نے انسانی تاریخ میں پہلی بار خلا کو بھی اپنے عسکری دائرہ کار میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد زمین، فضا، سمندروں اور سائبر ورلڈ کے بعد خلا نیٹو کے لیے پانچواں ممکنہ میدان جنگ بن جائے گا۔ 29 ممالک کا اتحاد آیندہ خلا میں اپنی دفاعی، نیویگیشن اور عسکری کمیونیکیشن کی صلاحیتوں کا استعمال کر سکے گا۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست میں امریکی محکمہ دفاع میں ایک ایسے نئے شعبے کا افتتاح کیا تھا، جسے امریکی خلائی کمان کا نام دیا گیا ہے۔
