English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ڈائٹنگ سے جان بھی جا سکتی ہے ، پہلے وزن کم کرنے کے نقصانات جان لیں

القمر

کریش ڈائٹ یا بہت کم کھانا گزشتہ چند برس کے دوران فیشن بن چکا ہے، جس کے دوران 6 سے 8 سو کیلوریز ہی جسم کا حصہ بنائی جاتی ہے، جسے جسمانی وزن میں کمی کے لیے موثر سمجھا جاتا ہے جبکہ بلڈپریشر اور ذیابیطس پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، مگر اس کے نتیجے میں دل پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ عصر حاضر میں وزن کم کرنے کے لیے سب سے مقبول ڈائٹ ’کم نشاستہ والی غذاؤں‘ سے دل کی دھڑکن کے عارضے میں مبتلا ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

چین کی یونیورسٹی  کے ماہرین امراض قلب نے دن بھر میں نشاستہ کی نہایت کم مقدار لینے والے افراد پر اس کے اثرات کا مطالعہ کیا اور اپنے اخذ شدہ نتائج کو مقالے کی صورت میں امریکن کالج آف کارڈیولوجی کی کانفرنس میں پڑھا۔

محققین کا کہنا ہے کہ دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کی سب سے بڑی وجہ ان افراد کا نشاستہ کی جگہ چکنائی اور لحمیات کا زیادہ استعمال ہے۔

ریسرچ کے سربراہ ڈاکٹر شیاؤڈونگ زواہنگ نے متنبہ کیا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے لو کاربوہائیڈریٹ ڈائٹ تجویز کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے اور ایسے افراد کا مکمل طبی معائنہ کراتے رہنا چاہیے۔

ریسرچ سربراہ نے ہدایت کی ہے کہ ہمارے جسم کو ہر قسم کی غذا یعنی نشاستہ، لحمیات اور چکنائی کی ضرورت رہتی ہے اس لیے کسی ایک کو کم یا کسی کو زیادہ کرنے کے بجائے متوازن غذا استعمال کرنی چاہیئے۔

دوسری طرف برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق کے مطابق جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے غذائی کیلوریز کی مقدار کم کرنے دل کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔

جبکہ امراضِ قلب کے شکار افراد کو ڈائٹنگ اپنانے سے قبل لازمی ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

اس تحقیق میں ایم آر آئی کے ذریعے دن بھر میں 800 سے بھی کم کیلوریز جسم کا حصہ بنانے سے دل کے افعال اور معدے، جگر اور دل کے پٹھوں کی چربی کی تقسیم پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ خیال رہے کہ طبی ماہرین مردوں کو دن بھر میں 2500 جبکہ خواتین کو 2 ہزار کیلوریز جزو بدن بنانے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ صحت مند وزن کو برقرار رکھا جاسکے، تاہم متعدد افراد دن بھر کی غذا میں بہت زیادہ کمی کردیتے ہیں تاکہ موٹاپے سے نجات حاصل کرسکیں۔

اس تحقیق کے دوران موٹاپے کے شکار 21 رضاکاروں کا جائزہ لیا گیا، جنھوں نے آٹھ ہفتوں تک چھ سے آٹھ سو کیلوریز روزانہ استعمال کی۔ رضاکاروں کا تحقیق کے آغاز سے قبل، ایک دن بعد اور آٹھ ہفتے بعد ایم آر آئی کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ کریش ڈائٹ طریقہ کار اپنانے کے ایک ہفتے بعد جسمانی چربی میں مجموعی طور پر چھ فیصد جبکہ جگر کی چربی میں 42 فیصد کمی ہوئی، انسولین کی مزاحمت میں نمایاں بہتری ہوئی، کولیسٹرول، بلڈ گلوکوز اور بلڈ پریشر بہتر ہوا۔مگر ایک ہفتے بعد دل کی چربی میں 44 فیصد اضافہ ہوا اور دل کے افعال میں نمایاں تنزلی دیکھنے میں آئی جیسے خون پمپ کرنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ جگر کی چربی اور ذیابیطس ریورس ہونے سے ہمیں توقع تھی کہ دل کے افعال بھی بہتر ہوں گے مگر ایک ہفتے بھی ان میں بدترین اثرات دیکھنے میں آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت کم غذا کھانے سے جسم کے مختلف حصوں سے چربی خون میں خارج ہوتی ہے اور دل کے پٹھوں کو وہ بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ دل کے پٹھے ایندھن کے لیے چربی یا شوگر کو استعمال کرتے ہیں اور چربی کی زیادہ مقدار دل کے افعال کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ موٹاپے سے نجات کے لیے یہ طریقہ کار دل کے لیے نقصان دہ ہے خصوصاً امراض قلب کے شکار افراد کے لیے تو جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے اور ان میں ہارٹ فیلیئر کا امکان بڑھتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج بھی یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے