ہمیں گورنرشپ، چیئرمین سینیٹ، بلوچستان حکومت اور ڈی آئی خان سے رکن قومی اسمبلی کی آفرکی گئی
مجھے یہ ساری آفرز اس دورحکومت میں ہوئی ہیں ہم نے ان عہدوں کوحقیر سمجھ کر پیشکش کومسترد کردیا
چیف الیکشن کمشنر ریٹائرمنٹ سے پہلے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ دیں ورنہ انہیں ایکسٹینشن دی جائے
عمران کتنا بزدل کھلاڑی ہے اکبر ایس بابرکے مقابلے سے بھاگنے کی کوشش ہور ہی ہے‘ پریس کانفرنس
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )جمعیت علما ء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھے گورنرشپ، چیئرمین سینیٹ، بلوچستان حکومت کی آفر کی گئی، مجھے کہا گیا کہ آپ ڈی آئی خان سے منتخب ہوکر واپس پارلیمنٹ میں آجائوں، میں نے موجودہ حکومت کی پیشکش مسترد کردی۔ انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پیشکش کی گئی ہے کہ آپ کے لیے قومی اسمبلی سیٹ خالی کردیتے ہیں۔آپ ڈی آئی خان سے منتخب ہوکر واپس پارلیمنٹ میں آجائیں۔ اسی طرح مجھے کہا گیا آپ کوبلوچستان حکومت دے دیتے ہیں۔ مجھے کہا گیا صوبے کی گورنرشپ دے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے چیئرمین سینیٹ کے عہدے کی پیشکش ہوئی۔ مجھے یہ ساری آفرز اس دورحکومت میں ہوئی ہیں۔اب جس شخص کو عمران خان چور کہے یہ اس کی بے گناہی کیلئے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کو چور کہنے والے خود احتساب سے بھاگ رہے ہیں۔ہر دور میں نئے نئے طریقوں سے لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ کہتا ہے میں سب کو جیلوں میں ڈالوں گا، پھر کہتا ہے یہ نیب کررہا ہے وہ نہیں کررہا۔ وہ اکیلا اپنی بات کررہا ہے، میں تو پورے ٹبر کو کہہ رہا ہوں جاؤ۔ ہمیں استعفا چاہیے یا پھر تین مہینے کے اندر اندر الیکشن کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم تو ان کی روزانہ چول سنتی ہے۔ اب عدالت نے بھی سن لی۔جعلی اکثریت کو ہٹانے کے لیے سیاسی راستہ اختیار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں میں کھلاڑی ہوں مقابلہ کرنا جانتا ہوں۔ مگر اکبر ایس بابر کے مقابلے سے بھاگنے کی کوشش ہور ہی ہے۔ کتنا بزدل کھلاڑی ہے۔ اپنے اوپر آتی ہے تو راہ فرار اختیار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر ریٹائرمنٹ سے پہلے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ دیں ورنہ انہیں ایکسٹینشن دی جائے۔ امید ہے وہ عہدے سے ریٹائرمنٹ سے پہلے اس کا فیصلہ دیں۔

