اسلام (مانیٹرنگ ڈیسک)ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ ثابت ہو گیا کہ وزیراعظم عمران خان کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے ، ان کیخلاف نفرت انگیزیز تقاریر کا مقدمہ چلنا چاہیے ۔پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ثابت ہوگیا کہ وزیراعظم کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے، ان کا میڈیکل چیک اپ ہونا چاہیے کیونکہ وزیراعظم جب بول رہے ہوتے ہیں تو دنیا ان کو سن رہی ہوتی ہے۔(ن) لیگ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہر جگہ جاتے ہیں تو نوازشریف اور شہبازشریف کا تذکرہ کرتے ہیں، حسد اور سیاسی انتقام میں وزیراعظم ذہنی مریض بن گئے ہیں ، دائیں بائیں بیٹھے ہوئے لوگوں کو ان کا معائنہ کروانا چاہیے۔مریم اورنگزیب نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم پر اشتعال اور نفرت انگیز تقاریر کا مقدمہ چلانا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا
کہ کہنا ہے کہ اگر نیب قوانین میں تبدیلی لاڈلوں کے لیےآرڈیننس کے ذریعے لائی جا رہی ہے تو یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے، عمران خان سیاسی انتقام میں اندھے ہو چکے ہیں، شہباز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائے جا رہے ہیں، کل وسیم اجمل نے عدالت میں کہا کہ مجھے شہباز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کو کہا جا رہا ہے لیگی رہنما جیلوں میں ہیں لیکن ان پر ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا، رہنماوں کو بکتر بند گاڑیوں میں لایا جاتا ہے، بدسلوکی کی جاتی ہے۔خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر کے باوجود انہیں نہیں لایا گیا، وہ اب بھی جیل میں ہیں، یہ خواجہ سعد رفیق کے آئینی حق پر حملہ ہے۔عمران خان کی پنجاب حکومت کو ہدایت ہے کہ وہ سعد رفیق کو پارلیمنٹ میں نہ لائیں جبکہ رانا ثنا اللہ کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں جاری کیے گئے، عمران خان پارلیمان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔سعد رفیق کو قومی اسمبلی نہ لائے جانے پر ہم تحریک استحقاق جمع کروا رہے ہیں۔ترجمان مسلم لیگ ن نے کہا کہ ہمیں کہا جا رہا کہ اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن کو ہراساں کر رہی ہیں، تحریک انصاف خود الیکشن کمیشن کو ہراساں کر رہی ہے، عمران خان 5 سال سے الیکشن کمیشن سے راہ فرار اختیار کیے ہوئے ہیں۔انہوں نے عمران خان کو مشورہ بھی دیا کہ اپنے ترجمانوں کو نواز شریف کا سیکورٹی گارڈ بھرتی کر دیں کیونکہ ان ترجمانوں کا یہی کام ہے نواز شریف کیسے چلا، کیا پہنا، شیو کی یا نہیں۔
ن لیگ
