میانوالی (خبرایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی بیماری پر شبہ ظاہرکرتے ہوئے دوبارہ تحقیقات کا عندیہ دے دیا۔میانوالی میں ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا تو سب کچھ خراب تھا،انہیںجہاز کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھا تو حیران رہ گیا،پھر ڈاکٹرز کی رپورٹ یاد آ گئی جس میں 15طرح کی بیماریاں بتائی گئی تھیں،رپورٹ میں تو تھا کہ مریض کو دل کا بھی مسئلہ ہے، کڈنی بھی خراب ہے، شوگر بھی بڑھی ہوئی ہے، مریض کو باہر جانے کی اجازت نہ دی تو وہ کسی بھی وقت مرسکتا ہے ، ہمیں توبتایاگیا تھا کہ نوازشریف کا علاج پاکستان میں ہوہی نہیں سکتا۔عمران خان نے کہاکہ جہاز دیکھ کر مریض ٹھیک ہوا یا لندن کی ہوا لگتے ہی مریض ٹھیک ہو گیا، اس کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا میں پھر سے رپورٹ دیکھ رہا تھا کہ ہارٹ ٹھیک نہیں، شوگر ٹھیک نہیں اور پلیٹ لیٹس بھی کم ہیں لیکن سیڑھیاں چڑھتے دیکھا تو کہا کہ اللہ تیری شان ہے، وہ جس جہاز میں گئے کوئی عام آدمی نہیں جاسکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حسن نواز 8 ارب روپے کے گھر میں رہتے ہیں، پیسہ
کہاں سے آیا؟ اسحاق ڈارکے والد کی سائیکل کی دکان تھی وہ ارب پتی ہو چکے ہیں،10 مہینے کے دوران عدالت میں جائداد کی 60 دستاویزات پیش کیں جب کہ وہ جو بھی دستاویز رکھتے وہ جعلی نکلتی۔ان کا کہنا تھا عمران خان کرسی بچانے کے لیے نہیں بلکہ تبدیلی لانے کے لیے آیا ہے ،سب ڈاکوؤں کا اکیلے مقابلہ کروں گاکیونکہ مافیا رہ گیا تو ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا۔جے یو آئی ف کے آزادی مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کنٹینر پر بے روزگار سیاست اس لیے نہیں آئے تھے کہ پاکستان کے معاشی حالات برے ہیں بلکہ اس خوف سے آئے تھے کہ ان کی سیاسی دکانیں بند ہونے جا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کنٹینر پر بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے اور جھوٹا نیلسن منڈیلا بھی تقریر کر رہا تھا، ان سب کو پتا ہے کہ جو انہوں نے اس ملک کے ساتھ کیا ہے، آگے انہوں نے کہیں نا کہیں پھنس جانا ہے، اس لیے سب اکٹھے ہیں۔ وزیر اعظم نے مولانافضل الرحمن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جھوٹ بول کر مدارس کے بچوں کو اسلام آباد لایا گیا۔
وزیراعظم
