واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤاخذے کی کارروائی سے متعلق سماعت کے دوران وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کی ایک اہم سابق اہل کار فیونا ہِل نے صدر ٹرمپ کو ہدف بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ من گھڑت بیانیہ ہے کہ 2016ء کے امریکی انتخابات میں روس نے نہیں بلکہ یوکرائن نے مداخلت کی تھی۔ فیونا ہِل نے گزشتہ روز ایوانِ نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کے اُس بیان کی نفی کی جس میں وہ کہہ چکے ہیں کہ ممکن ہے روس نے انتخابات میں مداخلت کی ہو۔ واضح رہے کہ 25 جولائی کی وہ ٹیلی فون کال مؤاخذے کی کارروائی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے جس میں ٹرمپ نے یوکرائن کے صدر ولودومیر زیلنسکی سے امریکا کے سابق نائب صدر اور 2020ء کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ممکنہ امیدار جو بائیڈن کے بارے میں کہا تھا کہ ہم پر ایک احسان کریں، اس بات کی چھان بین کریں کہ 2016ء کے صدارتی انتخاب میں یوکرائن نے ڈیمو کریٹک پارٹی سے صدارتی امیدوار اور سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی مدد کی تھی۔ فیونا ہِل رواں برس کے اوائل تک سیکورٹی کونسل میں روس سے متعلق اعلیٰ مشیر تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سوالات اور بیانات کی بنیاد پر جو میں نے سنا ہے، اس کمیٹی میں موجود کچھ ارکان یہ سمجھتے ہیں کہ روس اور اس کے سیکورٹی اداروں نے ہمارے ملک کی انتخابی مہم میں مداخلت نہیں کی اور شاید کسی طور پر یا کسی وجہ سے یوکرائن نے ایسا کیا تھا، یہ افسانوی بیانیہ ہے جسے روسی سیکورٹی اداروں ہی نے پھیلایا ہے اور اس کا پروپیگنڈا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سچ یہ ہے کہ 2016ء میں روس ہی وہ غیر ملکی طاقت تھی جس نے ہمارے جمہوری اداروں پرمنظم طریقے سے حملہ کیا۔ فیونا ہِل نے پینل سے استفسار کیا کہ اس تفتیش کے دوران سیاسی بنیادوں پر جھوٹ کو حاوی نہ ہونے دیں، جس سے واضح طور پر روسی مفادات کو فروغ ملتا ہے۔
