
بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراقی دارالحکومت میں جاری احتجاج کے دوران پولیس کی فائر نگ سے 3مظاہرین ہلاک ہوگئے۔ عراقی ٹی وی چینل الرافدین نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بغداد میں الاحرار پل کے نزدیک سرکاری فورسز کی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کے نتیجے میں 27مظاہرین زخمی بھی ہو گئے۔ قبل ازیں عراق کے مذہبی رہنما سیستانی نے جمعہ کے روز ملک کے مختلف علاقوں میں وسیع احتجاج کی کال دی تھی۔ اس سلسلے میں مظاہرین جمعرات کی شب ہی بغداد کے التحریر اسکوائر پر پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت مخالف مظاہروں کے دوران 2افراد گولی لگنے، جب کہ ایک شہری سر پر آنسو گیس کا شیل لگنے سے زخمی ہوا اور دوران علاج دم توڑ گیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کے ہاتھوں عراق کے جنوب میں بند کی جانے والی ام قصر بندرگاہ کو دوبارہ کھول دیا، تاہم ابھی تک بندرگاہ پر جہازوں کی آمدو رفت بحال نہیں ہوئی۔ مظاہرین نے بصرہ میں کویت کی سرحد کے نزدیک آئل فیلڈ اور بندرگاہ کی جانب مرکزی راستوں کو بھی بند کر دیا تھا، تاہم پولیس نے شیلنگ کرکے انہیں منتشر کردیا اور تمام راستوں کو کھول دیا۔ واضح رہے کہ یکم اکتوبر کو بغداد کے وسط میں احتجاج شروع ہونے کے بعد سے اب تک 323 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں، جب کہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ مظاہرین ملک میں وسیع پیمانے پر پھیلی بدعنوانی، روزگار کے مواقع کے ناپید ہونے اور بنیادی خدمات بالخصوص بجلی کی فراہمی کی ابتر صورت حال کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ دارالحکومت سے اٹھنے والی مظاہروں کی لہر عراق کے جنوبی شہروں تک پھیل چکی ہے۔
