
مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین کے مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں نے جمعہ کی صبح نابلس شہر کے جنوب اور مشرق میں واقع 3 دیہات میں حملہ کیا، اس دوران فلسطینیوں کی کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ مغربی کنارے کے شمال میں یہودی بستیوں کے معاملے کے ذمے دار غسان دغلس نے فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفاکو بتایا کہ صہیونی آباد کاروں نے نابلس کے جنوب میں واقع 2 دیہات مجدل بنی فاضل اور قبلان میں دراندازی کی اور کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ غسان نے مزید بتایا کہ آباد کاروں نے نابلس کے مشرق میں واقع گاؤں بیت دجن میں مختلف گھروں پر حملہ کر دیا اور وہاں گاڑیوں کو آگ لگا کر نسل پرستی پر مبنی عبارتیں لکھ دیں۔ دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر مقبوضہ بیت المقدس کے گورنر عدنان غیث کو گرفتار کر لیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ غیث کی گرفتاری اُن کے گزشتہ دنوں دیے گئے بیان کے باعث عمل میں آئی ہے، جس میں انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوری طور پر حرکت میں آئے تا کہ بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں پر عمل کے ذریعے بالعموم فلسطینی اراضی میں اور بالخصوص بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب سے جاری خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے گورنر عدنان غیث اور فتح موومنٹ کے سکرٹری جنرل شادی مطور کو گرفتار کر لیا تھا۔ اُدھر برطانوی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی یہودی بستیوں پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں غیرقانونی اور امن عمل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔
