واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) چین کی کمیونسٹ پارٹی کی خفیہ دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کے شمالی صوبے سنکیانگ میں ایغور مسلمان اقلیت کو منظم انداز میں ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ دستاویزات تفتیشی صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم ’’آئی سی آئی جے‘‘ نے ’’چائنا کیبلز‘‘ کے نام سے شائع کی ہیں۔ اس بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے ان دستاویزات کو عام کرنے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ چین کے دعووں کے برخلاف سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کے لیے قائم کردہ تربیتی مراکز اصل میں انہیں سخت نگرانی میں مرکزی قومی دھارے سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ آئی سی آئی جے کے مطابق انہیں کمیونسٹ پارٹی کے 2017ء کے کچھ رہنما اصول کی کاپی ملی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ حراستی مراکز سے کسی کے بھاگنے کو کیسے روکا جاسکے، ان حراستی مراکز کو کیسے خفیہ رکھا جا سکے اور وہاں جبری پابندی کے شکار افراد کو کب ان کے رشتے داروں سے ملاقات کی اجازت ہو گی اوریہاں تک کہ وہ کب بیت الخلا استعمال کر سکیں گے۔ دستاویزات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مبینہ قیدیوں کے فرار کے راستوں پر سخت پہرا ہے اور ان کی ہر وقت نگرانی کے احکامات بھی دیے گئے ہیں۔ دیگر دستاویز سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ چین مصنوعی ذہانت کے ذریعے سنکیانگ کے شہریوں کے ڈیٹا کو حراستی مراکز میں رکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ آئی سی آئی جے ’ سے قبل نیو یارک ٹائمز بھی سنکیانگ کی ایغور آبادی اور چین کے دیگر علاقوں میں مسلمانوں پر چینی کمیونسٹ جماعت کی جانب سے ہونے والے کریک ڈاؤن سے متعلق دستاویز شائع کر چکا ہے۔ دستاویزات کی تازہ اشاعت پر ابھی تک بیجنگ کی جانب سے اس پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم چینی حکومت ان دعووں کو مسترد کرتی آئی ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کے ماہرین اور کئی سرگرم کارکنان کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے تقریباً 10 لاکھ ایغورمسلمانوں کو حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔ ان دستاویز کو ایک ایسے وقت میں شائع کیا گیا ہے جب دنیا بھر میں سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکا سمیت 30 ممالک نے ایغوروں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی مذمت کی ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ سنکیانگ کے باشندوں کی ذہن سازی کررہا ہے، تاہم حقائق اس کے برخلاف ہیں۔
