English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ٹرمپ نے اختلافات پر بحریہ کے سربراہ کو برطرف کردیا

القمر

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنازع صدارتی فیصلہ ماننے سے انکار کرنے کی پاداش میں امریکی بحریہ کے سربراہ رچرڈ اسپنسر کو عہدے سے سبکدوش کردیا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق فوجی معاملات میں بے جا مداخلت کی مخالفت کرنے اور صدر کے متنازع فیصلے کی راہ میں رکاوٹ بننے والے امریکی بحریہ کے سربراہ رچرڈ اسپنسر کو عہدے سے ہٹانے کا حکم نامہ امریکی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی بحریہ کے سربراہ اور صدر ٹرمپ کے درمیان اختلاف فوجی ٹرائل میں مجرم ثابت ہونے والے اسپیشل آپریشن فورس کے سربراہ نیوی کمانڈو ایڈورڈ کی سزا ختم کرنے پر ہوا تھا۔ عراق میں تعینات امریکی بحریہ کے کمانڈو اور اسپیشل آپریشن فورس کے سربراہ ایڈورڈ گیلاہر نے داعش کے ایک 17 سالہ نہتے اور زخمی جنگجو کو ہتھیار ڈالنے پر پکڑ لیا تھا تاہم اسے گرفتار کرنے کے بجائے امریکی کمانڈو نے جنگجو کو تیز دھار چاقو سے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ امریکی کمانڈو نے جنگجو کو ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش پر کھڑے ہوکر تصاویر بھی بنائی تھیں جس میں کمانڈو نے فتح کا نشان بنایا ہوا تھا۔ امریکی بحریہ نے اس اقدام پر کمانڈو ایڈورڈ کا فوجی ٹرائل کیا تھا۔ جولائی میں فوجی عدالت نے کمانڈو ایڈورڈ کو جنگجو کے ماورائے عدالت قتل پر تو بری کردیا گیا تھا تاہم لاش کے ساتھ تصاویر بنوانے پر ان کی تنزلی کر دی گئی تھی جسے صدر ٹرمپ نے بہ یک جنبش قلم ختم کرکے کمانڈو کو ان کے عہدے پر بحال کردیا تھا۔ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر امریکی بحریہ کے سربراہ رچرڈ اسپنسر نے شدید تنقید کرتے ہوئے اسے فوجی نظم و ضبط اور کورٹ ٹرائل پر کاری ضرب قرار دیا تھا۔ رچرڈ اسپنسر نے صدر ٹرمپ سے متنازع فیصلہ واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بحریہ کے سربراہ اپنا اعتماد کھو چکے ہیں کیوں کہ انہوں نے ذاتی طور پر وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے