
دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں بم دھماکوں اور فضائی حملوں میں مزید 26 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق کے مطابق منگل کے روز سب سے ہول ناک واقعہ کرد اکثریتی شمال مشرقی صوبے حسکہ میں پیش آیا۔ ترکی نواز مزاحمت کاروں کے زیرانتظام شہر راس العین کے نواحی گاؤں تل حلف میں ایک طاقت ور کار بم دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 17 افراد شہید اور 20 زخمی ہوگئے۔ شامی مبصر کے مطابق زخمیوں میں کئی کی حالت تشویش ناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دھماکے سے کئی گاڑیاں اور املاک تباہ ہوگئیں۔ دوسراکار بم دھماکا شمالی سرحدی قصبے عفرین میں ہوا۔ شامی مبصر نے اس دھماکے میں 8افراد کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ بارود سے بھری گاڑی عفرین کے مرکزی علاقے میں کھڑی کی گئی تھی۔ دھماکے سے املاک کو شدید نقصان پہنچا۔ ادھر شمالی صوبے حلب میں نامعلوم طیاروں نے مختلف مقامات پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 9افراد جاں بحقہوگئے۔ شامی مبصر نے بتایا کہ نامعلوم لڑاکا طیاروں نے منگل کے روز ترکی کے اتحادی شامی باغیوں کے کنٹرول والے علاقے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے اور وہاں سے بمباری کے بعد دھماکوں کی کئی آوازیں سنی گئی ہیں۔ مقامی ذرائع نے گاؤں طرحین کے نزدیک واقع علاقے حراقت، برج گاؤں اور جرابلس شہر کے جنوبی حصے پر فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ وہاں 6 دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ شامی مبصر کے مطابق بمباری سے کئی افراد زخمی ہوئے ہیں اور ایندھن کی حمل ونقل کے لیے استعمال ہونے والے کئی ایک ٹینکر جل گئے ہیں۔ اس نے مزید بتایا ہے کہ ترکی کے ایک لڑاکا طیارے کو میر شہر کے اوپر پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور یہ بھی خبر سامنے آئی ہے کہ اس طیارے سے چھاتا برداروں کو اتارا گیا ہے۔
