
تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایرانی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والے حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے دوران مظاہرین نے 731 بینکوں اور 140 سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش کیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے بتایا کہ مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز کے 50 دفاتر اور چوکیوں پر حملے ہوئے، جب کہ لگ بھگ 70 پیٹرول پمپوں کو بھی آگ لگائی گئی۔ ایران میں 15 نومبر کو حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جو کئی شہروں میں پرتشدد رنگ اختیار کر گیا تھا۔ پھر یہمظاہرے حکومت مخالف احتجاج میں بدل گئے تھے اور اس کے دوران مظاہرین نے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس حوالے سے ایرانی وزیر داخلہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں نقصان کی تفصیل بتائی۔ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ملک بھر سے 2 لاکھ سے زائد افراد نے ان پُرتشدد مظاہروں میں حصہ لیا۔ لیکن ایرانی وزیر نے مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیر کے روز بتایا تھا کہ مظاہرین پر پولیس کے تشدد سے کم از کم 143 افراد ہلاک ہوئے۔ ایرانی وزیر داخلہ نے اعتراف کیا کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ہلاکتیں ہوئی ہیں اور مرنے والوں میں سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب جانب ایرانی پارلیمان کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان حسین نقوی حسینی نے کہا ہے کہ احتجاجی مظاہروں میں7 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انتخاب نامی ویب سائٹ کے مطابق ان افراد کے بارے میں مزید تفصیلات سرکاری عہدے دار جاری کریں گے۔ جب کہ رہبر اعلیٰ خامنہ ای نے حالیہ مظاہروں کو ایک سازش کا شاخسانہ قرار دیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس سازش میں امریکا ملوث تھا۔ خامنہ ای بدھ کے روز پاسداران انقلاب کی باسیج فورس کے اہلکاروں سے خطاب کررہے تھے۔
