
ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلادیش کی عدالت نے 2016 ء میں دارالحکومت ڈھاکا کے ایک کیفے پر حملہ کرنے والے 7 ملزمان کو سزائے موت سنادی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انسداد دہشت گردی کے ایک خصوصی ٹریبونل نے ملزمان کو آتشیں اسلحہ استعمال کرنے سمیت قتل اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے جرائم ثابت ہونے پر سزا سنائی۔ اس دوران ایک ملزم کو ناکافی شواہد کے باعث رہا کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ ڈھاکا کے گلشن ڈپلومیٹک انکلیو کی معروف ہولی آرٹیسان بیکری پر یکم جولائی 2016 ء کو ہونے والے حملے میں غیر ملکیوں سمیت 20افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 9اطالوی، 7جاپانی، ایک بھارتی، ایک امریکی اور 2مقامی بنگلادیشی شہری شامل تھے۔ حملے کے دوران جھڑپوں میں 2 پولیس اہلکار بھی مارے گئے تھے، جس کے بعد فوجی کمانڈوز نے 11 گھنٹے تک آپریشن کرکے 5 مبینہ عسکریت پسندوں اور ان کی معاونت کرنے والے ایک شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔ استغاثہ کا عدالتی کارروائی کے دوران کہا کہ شدت پسند حملے کے ذریعے بنگلادیش میں داعش کی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے۔ حملے میں مجموعی طور پر 21 جنگجو ملوث تھے اور 5ماہ تک اس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ حملے کے بعد ملک بھر میں کی گئی پولیس کی چھاپا مار کارروائیوں میں 100سے زائد افراد کو شک و شبہے کی بنیاد پر ہلاک کیا گیا۔
